- کتاب فہرست 180976
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1370 قصہ / داستان1571 صحت104 تاریخ3290طنز و مزاح599 صحافت200 زبان و ادب1698 خطوط741
طرز زندگی30 طب972 تحریکات272 ناول4270 سیاسی351 مذہبیات4772 تحقیق و تنقید6544افسانہ2670 خاکے/ قلمی چہرے234 سماجی مسائل110 تصوف2012نصابی کتاب439 ترجمہ4223خواتین کی تحریریں5783-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1263
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1594
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4857
- مرثیہ387
- مثنوی739
- مسدس44
- نعت586
- نظم1207
- دیگر84
- پہیلی15
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ66
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
پریم چند کے اقوال
میں ایک مزدور ہوں جس دن کچھ لکھ نہ لوں اس دن مجھے روٹی کھانے کا کوئی حق نہیں۔
سونے اور کھانے کا نام زندگی نہیں ہے۔ آگے بڑھتے رہنے کی لگن کا نام زندگی ہے۔
ہمیں حسن کا معیار تبدیل کرنا ہوگا۔ ابھی تک اس کا معیار امیرانہ اور عیش پرورانہ تھا۔
ہندوستانی، اردو اور ہندی کی چار دیواری کو توڑ کر دونوں میں ربط ضبط پیدا کر دینا چاہتی ہے۔ تاکہ دونوں ایک دوسرے کے گھر بے تکلف آ جا سکیں۔ محض مہمان کی حیثیت سے نہیں بلکہ گھر کے آدمی کی طرح۔
سچی شاعری کی تعریف یہ ہے کہ تصویر کھینچ دے۔ اسی طرح سچی تصویر کی صفت یہ ہے کہ اس میں شاعری کا مزہ آئے۔
جس طرح انگریزوں کی زبان انگریزی، جاپان کی جاپانی، ایران کی ایرانی، چین کی چینی ہے، اسی طرح ہندوستان کی قومی زبان کو اسی وزن پر ہندوستانی کہنا مناسب ہی نہیں بلکہ لازمی ہے۔
ہندوستان کی قومی زبان نہ تو وہ اردو ہو سکتی ہے جو عربی اور فارسی کے غیر مانوس الفاظ سے گراں بار ہے اور نہ وہ ہندی جو سنسکرت کے ثقیل الفاظ سے لدی ہوئی ہے۔ ہماری قومی زبان تو وہی ہو سکتی ہے جس کی بنیاد عمومیت پر قائم ہو۔
ہماری کسوٹی پر وہ ادب کھرا اترے گا جس میں تفکر ہو، آزادی کا جذبہ ہو، حسن کا جوہر ہو، تعمیر کی روح ہو، زندگی کی حقیقتوں کی روشنی ہو، جو ہم میں حرکت اور ہنگامہ اور بے چینی پیدا کرے۔ سلائے نہیں، کیوں کہ اب اور زیادہ سونا موت کی علامت ہوگی۔
ایسے بہت سے لوگ ہیں جو مصوری سے نفرت رکھتے ہیں۔ میری نگاہ میں ایسے آدمیوں کی کچھ وقعت نہیں۔
اس وقت ہندوستان کو شاعری سے زیادہ مصوری کی ضرورت ہے۔ ایسے ملک میں جہاں صدہا مختلف زبانیں رائج ہیں، اگر کوئی عام زبان رائج ہو سکتی ہے تو وہ تصویر کی زبان ہے۔
آرٹسٹ ہم میں حسن کا احساس پیدا کر دیتا ہے اور محبت کی گرمی۔ اس کا ایک فقرہ، ایک لفظ، ایک کنایہ اس طرح ہمارے اندر بیٹھتا ہے کہ ہماری روح روشن ہو جاتی ہے۔
ہمارے لئے وہ شاعرانہ جذبات بے معنی ہیں جن سے دنیا کی بے ثباتی ہمارے دل پر اور زیادہ مسلط ہو جائے۔ اور جن سے ہمارے دلوں پر مایوسی طاری ہو جائے۔
اخلاقیات اور ادبیات کی منزل مقصود ایک ہی ہے، صرف ان کے طرز خطاب میں فرق ہے۔ اخلاقیات دلیلوں اور نصیحتوں سے عقل اور ذہن کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ادب نے اپنے لیے کیفیات اور جذبات کا دائرہ چن لیا ہے۔
ہم ادیب سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنی بیدار مغزی، اپنی وسعت خیالی سے ہمیں بیدار کرے۔ اس کی نگاہ اتنی باریک اور اتنی گہری ہو کہ ہمیں اس کے کلام سے روحانی سرور اور تقویت حاصل ہو۔
ہر ایک زبان میں ایک فطری رجحان ہوتا ہے۔ اردو کو فارسی اور عربی سے فطری مناسبت ہے۔ ہندی کو سنسکرت اور پراکرت سے۔ اس رجحان کو ہم کسی طاقت سے بھی روک نہیں سکتے، پھر ان دونوں کو باہم ملانے کی کوشش میں کیوں ان دونوں کو نقصان پہنچائیں۔
ادیب کا مشن محض نشاط اور محفل آرائی اور تفریح نہیں ہے۔ وہ وطنیت و سیاست کے پیچھے چلنے والی حقیقت نہیں بلکہ ان کے آگے مشعل دکھاتی ہوئی چلنے والی حقیقت ہے۔
بھارت ورش میں زبان کی غلاظت اور بشرہ کا جھلاپن حکومت کا جزو خیال کیا جاتا ہے۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
-
