- کتاب فہرست 180685
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1987
ڈرامہ919 تعلیم347 مضامين و خاكه1372 قصہ / داستان1649 صحت108 تاریخ3333طنز و مزاح601 صحافت200 زبان و ادب1201
خطوط726 طرز زندگی30 طب974 تحریکات267 ناول4277 سیاسی349 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6676افسانہ2670 خاکے/ قلمی چہرے235 سماجی مسائل111 تصوف2013نصابی کتاب436 ترجمہ4190-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1254
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح186
- گیت63
- غزل1264
- ہائیکو11
- حمد59
- مزاحیہ31
- انتخاب1582
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت590
- نظم1208
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
پریم چند کے اقوال
میں ایک مزدور ہوں جس دن کچھ لکھ نہ لوں اس دن مجھے روٹی کھانے کا کوئی حق نہیں۔
سونے اور کھانے کا نام زندگی نہیں ہے۔ آگے بڑھتے رہنے کی لگن کا نام زندگی ہے۔
ہمیں حسن کا معیار تبدیل کرنا ہوگا۔ ابھی تک اس کا معیار امیرانہ اور عیش پرورانہ تھا۔
ہندوستانی، اردو اور ہندی کی چار دیواری کو توڑ کر دونوں میں ربط ضبط پیدا کر دینا چاہتی ہے۔ تاکہ دونوں ایک دوسرے کے گھر بے تکلف آ جا سکیں۔ محض مہمان کی حیثیت سے نہیں بلکہ گھر کے آدمی کی طرح۔
سچی شاعری کی تعریف یہ ہے کہ تصویر کھینچ دے۔ اسی طرح سچی تصویر کی صفت یہ ہے کہ اس میں شاعری کا مزہ آئے۔
جس طرح انگریزوں کی زبان انگریزی، جاپان کی جاپانی، ایران کی ایرانی، چین کی چینی ہے، اسی طرح ہندوستان کی قومی زبان کو اسی وزن پر ہندوستانی کہنا مناسب ہی نہیں بلکہ لازمی ہے۔
ہندوستان کی قومی زبان نہ تو وہ اردو ہو سکتی ہے جو عربی اور فارسی کے غیر مانوس الفاظ سے گراں بار ہے اور نہ وہ ہندی جو سنسکرت کے ثقیل الفاظ سے لدی ہوئی ہے۔ ہماری قومی زبان تو وہی ہو سکتی ہے جس کی بنیاد عمومیت پر قائم ہو۔
ہماری کسوٹی پر وہ ادب کھرا اترے گا جس میں تفکر ہو، آزادی کا جذبہ ہو، حسن کا جوہر ہو، تعمیر کی روح ہو، زندگی کی حقیقتوں کی روشنی ہو، جو ہم میں حرکت اور ہنگامہ اور بے چینی پیدا کرے۔ سلائے نہیں، کیوں کہ اب اور زیادہ سونا موت کی علامت ہوگی۔
ایسے بہت سے لوگ ہیں جو مصوری سے نفرت رکھتے ہیں۔ میری نگاہ میں ایسے آدمیوں کی کچھ وقعت نہیں۔
اس وقت ہندوستان کو شاعری سے زیادہ مصوری کی ضرورت ہے۔ ایسے ملک میں جہاں صدہا مختلف زبانیں رائج ہیں، اگر کوئی عام زبان رائج ہو سکتی ہے تو وہ تصویر کی زبان ہے۔
آرٹسٹ ہم میں حسن کا احساس پیدا کر دیتا ہے اور محبت کی گرمی۔ اس کا ایک فقرہ، ایک لفظ، ایک کنایہ اس طرح ہمارے اندر بیٹھتا ہے کہ ہماری روح روشن ہو جاتی ہے۔
ہمارے لئے وہ شاعرانہ جذبات بے معنی ہیں جن سے دنیا کی بے ثباتی ہمارے دل پر اور زیادہ مسلط ہو جائے۔ اور جن سے ہمارے دلوں پر مایوسی طاری ہو جائے۔
اخلاقیات اور ادبیات کی منزل مقصود ایک ہی ہے، صرف ان کے طرز خطاب میں فرق ہے۔ اخلاقیات دلیلوں اور نصیحتوں سے عقل اور ذہن کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ادب نے اپنے لیے کیفیات اور جذبات کا دائرہ چن لیا ہے۔
ہم ادیب سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنی بیدار مغزی، اپنی وسعت خیالی سے ہمیں بیدار کرے۔ اس کی نگاہ اتنی باریک اور اتنی گہری ہو کہ ہمیں اس کے کلام سے روحانی سرور اور تقویت حاصل ہو۔
ہر ایک زبان میں ایک فطری رجحان ہوتا ہے۔ اردو کو فارسی اور عربی سے فطری مناسبت ہے۔ ہندی کو سنسکرت اور پراکرت سے۔ اس رجحان کو ہم کسی طاقت سے بھی روک نہیں سکتے، پھر ان دونوں کو باہم ملانے کی کوشش میں کیوں ان دونوں کو نقصان پہنچائیں۔
ادیب کا مشن محض نشاط اور محفل آرائی اور تفریح نہیں ہے۔ وہ وطنیت و سیاست کے پیچھے چلنے والی حقیقت نہیں بلکہ ان کے آگے مشعل دکھاتی ہوئی چلنے والی حقیقت ہے۔
بھارت ورش میں زبان کی غلاظت اور بشرہ کا جھلاپن حکومت کا جزو خیال کیا جاتا ہے۔
You have remaining out of free content pages. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1987
-
