- کتاب فہرست 179635
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3318طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6665افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2064نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1611
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4868
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت579
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
سلام بن رزاق کے مضامین
غالب کے حضور میں
جس طرح فریضۂ حج کے لیے کعبہ کے طواف کے ساتھ سنگ اسود کو بوسا دینا سنت ہے۔ اسی طرح چمنستان غالبؔ کی سیر کئے بغیر اردو ادب کا ہفت خواں طے نہیں کیا جاسکتا۔ اس بات کو قدرے تمثیلی پیرائے میں یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ اردو ادب ایک دیو ہے جس کی جان غالبؔ
غیاث احمد گدی، ایک تاثر
غیاث احمد گدی نے جب لکھنا شروع کیا تو ادب میں ترقی پسندوں کا طوطی بول رہا تھا۔ اقلیم افسانہ پر کر شن چندر، منٹو، بیدی اور عصمت چغتائی کی شہرت کے جھنڈے لہرا رہے تھے۔ اس زمانے میں کسی بھی نئے افسانہ نگار کا ان کے اثرات سے بچ کر نکلنا، کھلے میدان میں
عصمت چغتائی: اردو افسانے کی ٹیڑھی لکیر
ترقی پسند عہد کے تین بڑے افسانے نگار کرشن چندر منٹو اور بیدی کے ساتھ عصمت چغتائی کا ذکر ناگزیر ہے۔ عصمت چغتائی نے آزادی سے کچھ پہلے لکھنا شروع کیا اور اپنی باغیانہ فکر، بے باکانہ طرزِ اظہار، زنانہ بامحا ورہ زبان، شوخ اور بے لاگ مکالموں کے سبب اردو
باقر مہدی سے چند آدھی ادھوری ملاقاتیں
باقر صاحب سے میرے مراسم کیسے تھے؟ کتنے تھے؟ اور کیوں تھے؟ تھے بھی یا نہیں؟ یہ سب سوالات تشنہ ہیں۔ اگر میں ان کے جوابات دینے کی کوشش کروں تو شاید جوابات بھی تشنہ ہی رہیں گے۔ میری ناقص رائے میں دو افراد کے درمیان تعلقات کبھی یکساں نہیں رہتے۔ وقت
علی سردار جعفری کی یاد میں
فیض سے تیرے ہے اے شمع شبستان بہار دل پرواز چراغاں پر بلبل گلنار اردو کی ادبی تحریکوں میں ترقی پسند تحریک سب سے زیادہ توانا اور دور رس نتائج کی حامل رہی ہے۔ اس کے اثرات پورے بر صغیر کے ادب بلکہ تیسری دنیا کے ادب میں بھی تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ اردو
چراغ بجھ گیا دود چراغ باقی ہے، سریندر پرکاش کی یاد میں
’’اس بات سے تو خیر سبھی متفق تھے کہ وہ مکمل طور پر آزاد آدمی ہے۔ اور آزاد سے مراد ایسی شخصیت تھی جس پر زمین کی کشش بھی اثر انداز نہ ہو سکتی ہو۔ وہ ہم سے جب بھی ملتا کچھ اس طرح جیسے سمندر سے کوئی لہر اٹھ کر آئے اور پھر ساحل کی ریت پر پھیل جائے اور دور
راجندر سنگھ بیدی: کچھ یادیں کچھ باتیں
ترقی پسند دور کے افسانہ نگاروں میں منٹو کرشن چندر کے بعد تیسرا بڑا نام راجندر سنگھ بیدی کا ہے۔ بیدی نے منٹو اور کرشن چندر کے ساتھ بیسویں صدی کے چوتھے دہے کے آخر میں لکھنا شروع کیا مگر شروع شروع میں انہیں وہ پذیرائی نہیں ملی جو کرشن چندر اور منٹو
ساجد رشید کی یاد میں
ساجد رشید سے میرے مراسم قریب تیس پینتیس برس پرانے تھے۔ وہ عمر میں مجھ سے پندرہ برس چھوٹے تھے مگر ہماری دوستی میں عمر کا فاصلہ کبھی مانع نہیں ہوا۔ ویسے بھی ساجد رشید کو شروع سے اپنے سے عمر میں بڑوں کے درمیان اٹھنے بیٹھنے کا شوق رہا ہے۔ ان کی شکل و شباہت
ساگرسرحدی: ایک منفرد شخصیت
یوں تو ساگر سرحدی کا نام عوام میں ایک فلمی مکالمہ نگار، ڈائرکٹر اور پروڈیورسر کی حیثیت سے مشہور ہے مگر ادب کی دنیا میں ایک عمدہ ڈرامہ نگار اور افسانہ نگار کی حیثیت سے بھی انھیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ستّرکی دہائی میں ان کے دو چار افسانے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
