- کتاب فہرست 179254
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1391 قصہ / داستان1598 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت204 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6660افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب457 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5894-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1303
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1258
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1609
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4876
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت580
- نظم1195
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ75
- واسوخت26
تسنیم منٹو کے افسانے
توتیا من موتیا
شمع اور بختیار کی شادی عام روایتی شادیوں جیسی تھی۔ اس قدر رواجی کہ شمع اور بختیار کی عمروں کا پندرہ سال کا تفاوت بھی مد نظر نہیں رکھا گیا تھا۔ بختیار ایک لاابالی اور پختہ عادات و اطوار کا مالک تھا۔ اس روایتی مرد کے دل میں بیوی کی شناخت محض ایک ذاتی وجود
متھ
زندگی کیسے اجاڑ رنگ موسموں کے نرغے میں ہے۔نہ بہار جوبن دکھاتی ہے، نہ ساون کھل کر برستا ہے۔ حالات کی زبوں حالی ودگر گونی سے میرے خطے کی خلقت بےسمتی ہوئی جاتی ہے۔ ایک جنگل ہے، انسانوں کا جنگل، تباہ حال مجبور و لاچار انسانوں کا جنگل۔ سپاٹ چہروں، بے رنگ
بند کمروں کی شناسائیاں
دو چار روز سے گھر میں کچھ ہو رہا تھا۔ اس کے بچے اور میاں کچھ پلان کر رہے تھے۔ فون آ جا رہے تھے اور اس کامیاں بچوں کو بتا رہا تھا کہ ہاں فلاں وقت ٹھیک ہے، ہاں ہاں فلاں کا گھر بھی صحیح رہے گا۔ زرینہ کو اس تمام Activity سے یہ پلے پڑا کہ کسی بڑی خاتون شخصیت
اپنی اپنی زندگی
یہ دوسری صبحِ کاذب تھی کہ ’’اَلصَّلٰوۃُ خَیْر’‘ مِنَ النَّوْم‘‘ کی آواز پر نہ تو وہ بستر سے ایک جھٹکے سے اٹھی، نہ ہی بِنا دیکھے پیروں میں چپل اُڑسی کہ غسل خانے کی جانب لپکے۔ اس کے ذہن کی اندھیر نگری میں سوچوں کا کہرام مچا تھا،بل کہ سوچ کے دونوں سرے ایک
یوزلیس
جب منیر اور وہ لڑکی جلال کے دفتر کی سیڑھیاں چڑھ کر، جلال کے کمرے میں آ کر کھڑے ہوئے تو جلال نے پہلے لڑکی کوبغور دیکھا اور پھر منیر سے نظر ملائی۔ پھر بڑی دھیمی آواز میں اس کے منہ سے عادتاً ’’یُوزلیس‘‘ نکل گیا۔ اس پر جو منیر کا ردعمل ہوا وہ حیران کن تھا۔
حالتے رفت
تسلسل کیوں ٹوٹتا ہے؟ عمارت کیوں ڈھے جاتی ہے؟ یقیناً تسلسل جس تار سے بندھا ہوتا ہے، بے عملی کے عمل سے، کسی جوڑ پر وہ تار زنگ آلود ہو جاتا ہے اور اگر عمارت ڈھے جاتی ہے تو بھی کسی کاریگر کے ہاتھ کی کجی یا ناقص میٹیریل کا استعمال عمارت کے وجود کو ختم کر
میں ہوں فرزانہ
ابتدائی سیشن کے بعد گروپس میں بھی ڈسکشن اختتام پذیر ہو چکی تھی، اور اب چاے کا وقفہ تھا۔ ڈیلی گیٹس دو دو، چار چار کی ٹولیوں میں بیٹھے کسی نہ کسی موضوع پر اظہارِ خیال کر رہے تھے۔ نعیمہ ہیومن رائٹس والوں کی طرف سے کراچی سے پہنچی تھیں، ڈاکٹر راشدہ کانفرنس
سلامت رہو!
سو یہ گھر آج سے اپنا ہوا۔ یہ اینٹیں، یہ سیمنٹ، یہ لال رنگ مٹی، یہ کھڑکی، یہ دروازہ، یہ سب میرا اپنا ہے۔ ایک کمرا، ایک کچن اور ایک باتھ، میری زندگی بھر کی کل کائنات، یہ گھر اور میرا اپنا بے معنی وجود۔۔۔ جس طرح گھر کے معنی اس کی وسعتوں سے ہوتے ہیں، کہ
کم آشنائی، گریز پائی
نہ کم نہ زیادہ پورے ستائیس برس بعد اسے اچانک محسوس ہوا کہ آج دھوپ بہت دھوم دھام سے نکلی ہے۔ اس کے چاروں جانب بے حد شفّاف روشنی تھی۔ وہ باہر لان میں کرسی ڈالے بیٹھی تھی۔ اس نے آنکھیں سکیڑیں، تھوڑا کرسی کے پیچھے کھسکی اور گردن کو کندھوں پر پھینک کر آسمان
ہجوم ہم نفساں
بارہ برسوں کا سلسلہ وقت اورحالات و واقعات پر مشتمل ایک دراز سلسلہ ہے۔۔۔ گزرے زمانوں میں بن باس کی مدت بارہ برسوں پر محیط تھی۔ بارہ برس ایک لمبا زمانہ تھا، اور بہت سی امثال بارہ برسوں کے حوالے سے مروج تھیں۔ دیو مالا میں لکشمن ریکھا بھی بارہ برسوں کے لیے
گل و گلزار سے آگے
فقیر جو کہ دانش رکھتا تھا۔ اس نے چالیس بھیڑوں کے مالک گڈرئیے کو نصیحت کی، ’’جس مہم پہ تم جا رہے ہو اس میں علامتوں پر نظر رکھنا۔‘‘ زندگی کا سفر ایک مہم ہے۔ علامتوں پہ نظر رکھنے کی صلاحیت کے باوجود اس کی وسعت اور حجم بے کراں ہے۔ جو سالوں، مہینوں، دنوں
اجل ان سے مل
جب رابعہ پہلے پہل ان سے ملی تھی تو بے حد خوف زدہ اور رونکھی ہو رہی تھی۔ سب چہرے اپنے آپ میں فٹ، لیکن آنکھوں میں وحشت، بے گانگی اور ہنسی میں طنز تھا۔ وہ سب کے سب اسے فالتو لگے۔ ایک بے معنی زندگی نے انہیں دبوچ رکھا ہے، اس نے سوچا تھا، لیکن پھر اپنی دوست
رفاقت
لکھنا آتا ہو تو اِنسان اندر کی دُنیاکو باہر لاسکتا ہے اور اکلا پے کو بانٹ دیتا ہے، لیکن جب انسان لکھ بھی نہ پائے تو اپنے دُکھ دُوسرے سے بیان کرنے میں Ego آڑے آتی ہے۔ نظر سے نظر مِلا کر بات کہنے سے حیا آتی ہے۔ آنکھیں اپنے اندر بسی دُنیا سمیت بندہو جاتی
ذرا سی بات
پچھلے آٹھ روز سے گھر میں ایک تناو کی کیفیّت تھی۔ وقت ٹھہر گیا تھا، اور یہ آٹھ روز آٹھ صدیاں بن گئے تھے، اور اِن آٹھ صدیوں میں اُس کا وُجُود اِس طور سِمٹا تھا کہ جیسے کسی نے شکنجے میں کس دِیا ہو۔ شادی کے شُرُوع کے دِنوں میں اُس کے شوہر نے اپنے مُعاشقوں
بند کتاب
دوپہر کی دھوپ کی تمازت ڈھل چکی تھی۔ اب سہ پہر تھی۔ شہاب نے صوفے پر لیٹے لیٹے ذرا سا سر اونچا کر کے ادھر ادھر نگاہ ڈالی۔ بیگم کرسی پہ بیٹھی ٹیلی ویژن پر نظریں جمائے ہوئے تھیں۔ انہوں نے ٹی وی کی آواز کو بہت دھیما کر رکھا تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ انہیں اسے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
