Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Nivesh Sahu's Photo'

نویش ساہو

1994 | دتیا, انڈیا

نئی نسل کے شاعروں میں شامل، شاعری میں روایت اور جدّت کے ساتھ محبت، دکھ اور اندرونی کشمکش کا ایک سادہ اور خوبصورت زبان میں اظہار

نئی نسل کے شاعروں میں شامل، شاعری میں روایت اور جدّت کے ساتھ محبت، دکھ اور اندرونی کشمکش کا ایک سادہ اور خوبصورت زبان میں اظہار

نویش ساہو کے اشعار

193
Favorite

باعتبار

رونے لگے تو کون ہمیں چپ کرائے گا

سو اس کی احتیاط ہے ہم رو نہیں رہے

ہوش میں آتے ہی ہو جاتے ہیں چپ

اور بے ہوشی میں چلاتے ہیں ہم

اگر ہوتا تو خود کو پھر بناتا

مگر افسوس کوزہ گر نہیں ہوں

اپنے آنگن میں پرندے دیکھ کر

جسم کی ٹہنی سے اڑ جاتے ہیں ہم

تم کو افسوس تمہیں ٹھیک بنایا نہ گیا

اور اک ہم کہ ابھی چاک پہ رکھے نہ گئے

یہ گلہ ہے کہ ہارتا بھی نہیں

بیچ میں کھیل چھوڑ دیتا ہوں

اس جنگل کے پیڑوں سے میں واقف ہوں

گر جاتے تھے جس پر سایا کرتے تھے

کوئی قصہ نہیں سنانے کو

کیسے بہلاؤں گا زمانہ کو

اک سدا آسماں سے آتی ہے

اور میں دھیان تک نہیں دیتا

سوچتا ہوں کہ تجھ کو مجھ سے کوئی

حادثہ ہی بچا کے لے جائے

زندہ رہا تو کون سا زندہ رہوں گا میں

مر بھی گیا تو کون سا میں مر ہی جاؤں گا

ہٹا لی وقت رہتے آنکھ قصہ گو کی آنکھوں سے

مجھے اس کی کہانی پر بھروسہ ہونے والا تھا

زخم ہرے رہتے ہیں دیکھا دیکھی میں

اور نظر اندازی میں بھر جاتے ہیں

نہایت بھلے تجربہ کار اہل وفا چن لیے ہیں

ہماری سہولت سے ہم نے ہمارے خدا چن لیے ہیں

کیا ہے کہ ہم اس کو کبھی پورے نہیں پڑتے

ہم ہی نہیں کر پاتے ہیں بھرپائی ہماری

Recitation

بولیے