رؤف رضا کے اشعار
وہ یہ کہتے ہیں صدا ہو تو تمہارے جیسی
اس کا مطلب تو یہی ہے کہ پکارے جاؤ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
وہ جو اک شخص تمہیں یاد کیا کرتا تھا
آج مصروف بہت ہے اسے تم یاد کرو
یوں ہی ہنستے ہوئے چھوڑیں گے غزل کی محفل
ایک آنسو سے زیادہ کوئی رونے کا نہیں
ساری خوشی ہماری آنکھوں سے چھن رہی ہے
کچھ دیر تم نے گیسو لہرا دیئے تو کیا ہے
جو بھی کچھ اچھا برا ہونا ہے جلدی ہو جائے
شہر جاگے یا مری نیند ہی گہری ہو جائے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اب اسی بات پہ حیران ہوا بیٹھا ہوں
کیوں کسی بات پہ حیران نہیں ہوتا میں
کچھ نہیں اگلی ملاقات کی گھبراہٹ ہے
اس کے جانے سے پریشان نہیں ہوتا میں
وہ شخص تھا ہی کچھ ایسا ہنساتا رہتا تھا
مجھے بھی سوگ کے عالم میں مسکرانا پڑا
کسی بھی حال میں اس سے جدا نہیں ہونا
بگاڑتا ہوں طبیعت اگر سنبھلتی ہے
قلم کی نوک پہ رکھے ہوئے چراغ ہیں ہم
ہوا چلے تو ہمارے لیے دعا کرنا
ہائے وہ شخص جو مایوس مرے گھر سے گیا
اپنی تنہائیاں رکھنے کے لیے آیا تھا
کس سے پوچھیں کہ ہمیں دشت میں کرنا کیا ہے
کیا کیا جاتا ہے بے وقت بہار آنے پر
الجھن بنی ہوئی ہے زخموں کی تازہ کاری
ہر روز اک مسیحا بیمار ہو رہا ہے
وہ تو بچوں کی پتنگوں نے اسے گھیر لیا
ورنہ چپکے سے نکل جاتی بہار آئی ہوئی
ہمارے پاس تمہارے سوا نہ تھا کچھ بھی
ہزار چاہتیں رکھی ہوئی تھیں میلے میں
جو دربدر ہیں وہی دربدر نہیں ہیں رضاؔ
مکان والے بھی خالی مکاں میں بیٹھے ہیں
بس یہ ہوتا ہے کہ سر تال بدل جاتی ہے
رقص روکا نہیں جاتا ہے بہار آنے پر
یہ حسن ذات بھی کچھ چیز ہے اگر سمجھو
وقار اور بڑھا ہے سفید بالوں سے
اس ملاقات کو زنجیر کی صورت کر دے
خود سے ملتا ہوں تو آپے میں نہیں رہتا ہوں
اتنی رنجش میں اکیلا نہیں ہو سکتا میں
آج کی رات بھی اپنا نہیں ہو سکتا میں
کوئی بتائے یہ دلداریاں کہاں رکھوں
چہار سمت تو پھیلی ہوئی اداسی ہے
تم نے تالاب کنارے نہیں دیکھا شاید
کس طرح چاند غضب ڈھاتا ہے دیوانے پر
وہ بھی اب کون سا باقی ہے مری غزلوں میں
میں بھی اب دوسری دنیا میں کہیں رہتا ہوں
کیا بھول پڑ گئی ہے رستے سنبھالنے میں
خود کو بھی یاد رکھنا دشوار ہو رہا ہے
ہم کو ویسے بھی کوئی کام نہیں آتا ہے
اور یہ کام حقیقت کو فسانہ کرنا
میرے چہرے سے عیاں کچھ بھی نہیں
یہ کمی ہے تو کمی ہے مجھ میں
یقیں کے جوش میں اپنا قصیدہ لکھ ڈالا
میں خود شناسی کو سمجھا خدا شناسی ہے
سارے ناکام تمنا مرے دل تک آ جائیں
آج وو کام کریں گے کہ جو ہونے کا نہیں
مرے خیال میں وہ دلبری کی منزل تھی
تمہیں بھلانا پڑا اور تمہیں بتانا پڑا
اس نغمگی کا تھوڑا گنہگار میں بھی ہوں
مجھ سے بھی اس جہان میں ہلچل رہی ہے دوست
اب یہ پتھرائی ہوئی آنکھیں لیے پھرتے رہو
میں نے کب تم سے کہا تھا مجھے اتنا دیکھو
رضاؔ ہماری ان آنکھوں کے پاس کچھ بھی نہیں
بس ایک رات ہے جو بار بار ڈھلتی ہے
ہاتھ جوڑے ہوئے پھر سامنے فاقہ آیا
آج پھر آدمی ہونے سے مکرنا ہے مجھے
ہم کو آداب تکلف بھی کہاں آتے ہیں
ہم تو پہلی ہی ملاقات میں کھل جائیں گے
مری آنکھوں میں آ جانا تو اک معمول ہے لیکن
محبت زور کرتی ہے تو وہ سانسوں میں آتا ہے
جو بھی کچھ اچھا برا ہونا ہے جلدی ہو جائے
شہر جاگے یا مری نیند ہی گہری ہو جائے
تم کوئی اور نہ تصویر روانہ کرنا
میری پلکوں کی تو عادت ہے پرانا کرنا
میرے سینے سے نکالو مری بنیاد کی جان
اتنی آسانی سے ویران نہیں ہوتا میں
کاش آواز کو تصویر کیا جا سکتا
ایک ہی لے میں ہوئے جھیل کا پانی اور میں
خدا سے ملنے کی آرزو تھی وہ بندگی تھی
خدا کو محسوس کر رہا ہوں یہ شاعری ہے
بس اپنے آپ سے بیزار ہو رہے ہیں ہم
کوئی ملا ہی نہیں زندگی کے لہجے میں
مزہ تو شام کی محفل کے انتظار میں ہے
سحر میں کچھ نہیں خواب سحر میں کچھ بھی نہیں
نہ جانے کتنے نصیبوں کے ساتھ ڈھلتی ہے
یہ شب جو میری ضرورت سے کم نکلتی ہے
ذرا اٹھانا وہ میری کتاب پلکوں سے
وہ دیکھ آخری صفحے پہ کچھ لکھا ہوگا