Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Rauf Raza's Photo'

رؤف رضا

1956 - 2016 | دلی, انڈیا

ممتاز مابعد جدید شاعر

ممتاز مابعد جدید شاعر

رؤف رضا کے اشعار

307
Favorite

باعتبار

وہ یہ کہتے ہیں صدا ہو تو تمہارے جیسی

اس کا مطلب تو یہی ہے کہ پکارے جاؤ

وہ جو اک شخص تمہیں یاد کیا کرتا تھا

آج مصروف بہت ہے اسے تم یاد کرو

یوں ہی ہنستے ہوئے چھوڑیں گے غزل کی محفل

ایک آنسو سے زیادہ کوئی رونے کا نہیں

ساری خوشی ہماری آنکھوں سے چھن رہی ہے

کچھ دیر تم نے گیسو لہرا دیئے تو کیا ہے

جو بھی کچھ اچھا برا ہونا ہے جلدی ہو جائے

شہر جاگے یا مری نیند ہی گہری ہو جائے

کہاں گئے وہ شفیق لمحے

میں جن کو جی کر بڑا ہوا ہوں

اب اسی بات پہ حیران ہوا بیٹھا ہوں

کیوں کسی بات پہ حیران نہیں ہوتا میں

وہ شخص تھا ہی کچھ ایسا ہنساتا رہتا تھا

مجھے بھی سوگ کے عالم میں مسکرانا پڑا

کچھ نہیں اگلی ملاقات کی گھبراہٹ ہے

اس کے جانے سے پریشان نہیں ہوتا میں

قلم کی نوک پہ رکھے ہوئے چراغ ہیں ہم

ہوا چلے تو ہمارے لیے دعا کرنا

ہائے وہ شخص جو مایوس مرے گھر سے گیا

اپنی تنہائیاں رکھنے کے لیے آیا تھا

ہمارے پاس تمہارے سوا نہ تھا کچھ بھی

ہزار چاہتیں رکھی ہوئی تھیں میلے میں

کسی بھی حال میں اس سے جدا نہیں ہونا

بگاڑتا ہوں طبیعت اگر سنبھلتی ہے

رفتہ رفتہ لوگ عادی ہو گئے

رات کو دن کی طرح برتا گیا

الجھن بنی ہوئی ہے زخموں کی تازہ کاری

ہر روز اک مسیحا بیمار ہو رہا ہے

وہ تو بچوں کی پتنگوں نے اسے گھیر لیا

ورنہ چپکے سے نکل جاتی بہار آئی ہوئی

کس سے پوچھیں کہ ہمیں دشت میں کرنا کیا ہے

کیا کیا جاتا ہے بے وقت بہار آنے پر

مزہ تو شام کی محفل کے انتظار میں ہے

سحر میں کچھ نہیں خواب سحر میں کچھ بھی نہیں

نہ جانے کتنے نصیبوں کے ساتھ ڈھلتی ہے

یہ شب جو میری ضرورت سے کم نکلتی ہے

میں شور ہوں تیری خامشی کا

تمام گھر میں مچا ہوا ہوں

وہ بھی اب کون سا باقی ہے مری غزلوں میں

میں بھی اب دوسری دنیا میں کہیں رہتا ہوں

کیا بھول پڑ گئی ہے رستے سنبھالنے میں

خود کو بھی یاد رکھنا دشوار ہو رہا ہے

ہم کو ویسے بھی کوئی کام نہیں آتا ہے

اور یہ کام حقیقت کو فسانہ کرنا

میرے چہرے سے عیاں کچھ بھی نہیں

یہ کمی ہے تو کمی ہے مجھ میں

یقیں کے جوش میں اپنا قصیدہ لکھ ڈالا

میں خود شناسی کو سمجھا خدا شناسی ہے

میرے سینے سے نکالو مری بنیاد کی جان

اتنی آسانی سے ویران نہیں ہوتا میں

کاش آواز کو تصویر کیا جا سکتا

ایک ہی لے میں ہوئے جھیل کا پانی اور میں

تم کوئی اور نہ تصویر روانہ کرنا

میری پلکوں کی تو عادت ہے پرانا کرنا

بھیگے لفظوں کی ضرورت کیا تھی

ایسی کیا آگ لگی ہے مجھ میں

بس اپنے آپ سے بیزار ہو رہے ہیں ہم

کوئی ملا ہی نہیں زندگی کے لہجے میں

ہم کو آداب تکلف بھی کہاں آتے ہیں

ہم تو پہلی ہی ملاقات میں کھل جائیں گے

مری آنکھوں میں آ جانا تو اک معمول ہے لیکن

محبت زور کرتی ہے تو وہ سانسوں میں آتا ہے

اس طرح لوگوں کے ایمان بگڑ جاتے ہیں

جس طرح اس نے مجھے صاحب ایمان کیا

اس درجہ خموشی کے گنہگار نہ ہوتے

اے کاش چھلک جاتی وہی آخری چائے

اس سفر میں مجھے پانی کی ضرورت نہ پڑے

جہاں آرام کروں تم مرے سینے میں ملو

میں روز و شب کا تصور بدلنا چاہتا ہوں

لگی ہوئی ہے مری خواب بننے والوں سے

جو دربدر ہیں وہی دربدر نہیں ہیں رضاؔ

مکان والے بھی خالی مکاں میں بیٹھے ہیں

بس یہ ہوتا ہے کہ سر تال بدل جاتی ہے

رقص روکا نہیں جاتا ہے بہار آنے پر

یہ حسن ذات بھی کچھ چیز ہے اگر سمجھو

وقار اور بڑھا ہے سفید بالوں سے

اس ملاقات کو زنجیر کی صورت کر دے

خود سے ملتا ہوں تو آپے میں نہیں رہتا ہوں

اتنی رنجش میں اکیلا نہیں ہو سکتا میں

آج کی رات بھی اپنا نہیں ہو سکتا میں

یہ پیڑ کون سی دنیا کی بات کرتے ہیں

ہمیں تو سایہ بھی اپنا خرید لانا پڑا

روشنی دکھائی دے چاپ تو سنائی دے

اک کواڑ عادتاً رکھتا ہوں کھلا ہوا

میں جی اٹھا میں مر گیا میں پھر سے جی اٹھا

یہ ساری واردات ذرا دیر کی ہے بس

رضاؔ ہماری ان آنکھوں کے پاس کچھ بھی نہیں

بس ایک رات ہے جو بار بار ڈھلتی ہے

ہاتھ جوڑے ہوئے پھر سامنے فاقہ آیا

آج پھر آدمی ہونے سے مکرنا ہے مجھے

اب یہ پتھرائی ہوئی آنکھیں لیے پھرتے رہو

میں نے کب تم سے کہا تھا مجھے اتنا دیکھو

سارے ناکام تمنا مرے دل تک آ جائیں

آج وو کام کریں گے کہ جو ہونے کا نہیں

اسی میں سو رمز سوجھتے ہیں

جو بات کہنے سے رہ گئی ہے

مرے خیال میں وہ دلبری کی منزل تھی

تمہیں بھلانا پڑا اور تمہیں بتانا پڑا

Recitation

بولیے