Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Saif Irfan's Photo'

سیف عرفان

1993 | اعظم گڑہ, انڈیا

نوجوان شاعروں میں شامل، غزل میں معاصر منظرنامے کا بیان

نوجوان شاعروں میں شامل، غزل میں معاصر منظرنامے کا بیان

سیف عرفان کے اشعار

40
Favorite

باعتبار

تیرے ہاتھوں نے جو تھاما ہے کسی اور کا ہاتھ

میری آنکھوں کو یہی ایک نظارہ دکھ ہے

اب لوگ لکھ رہے ہیں محبت کی داستان

ملبے سے میرے اس کی نشانی نکال کر

یہ دیکھنے کے لیے اس نے پھر سے توڑ دیا

کہ کیسے ٹوٹا ہوا دل دوبارہ بنتا ہے

جہاں سے سیفؔ ہمیں کچھ نظر نہیں آتا

وہیں سے راستہ اکثر ہمارا بنتا ہے

بنتا رہا بگڑتا رہا عمر بھر یہ دل

لیکن تمام عمر یہ پتھر نہ بن سکا

وہ بد نصیب لوگ بڑے بد نصیب لوگ

پیاسے رہے زمین سے پانی نکال کر

ایسی حالت میں تو مر جاتے ہیں اچھے اچھے

ہم نے جس حال میں اس بار گزارا دکھ ہے

یہ سوچ کر کے کبھی جھوٹ بول لیتے ہیں

ہر ایک شخص سے اب رابطہ خراب نہ ہو

عجیب شخص ہے عرفانؔ ہم سے چاہتا ہے

کے پیڑ کاٹ دیں اور گھونسلہ خراب نہ ہو

مسند کے آگے اتنا جھکایا ہے اپنا سر

بچوں کا میرے دھڑ تو بنا سر نہ بن سکا

Recitation

بولیے