سیف عرفان کے اشعار
تیرے ہاتھوں نے جو تھاما ہے کسی اور کا ہاتھ
میری آنکھوں کو یہی ایک نظارہ دکھ ہے
اب لوگ لکھ رہے ہیں محبت کی داستان
ملبے سے میرے اس کی نشانی نکال کر
یہ دیکھنے کے لیے اس نے پھر سے توڑ دیا
کہ کیسے ٹوٹا ہوا دل دوبارہ بنتا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جہاں سے سیفؔ ہمیں کچھ نظر نہیں آتا
وہیں سے راستہ اکثر ہمارا بنتا ہے
بنتا رہا بگڑتا رہا عمر بھر یہ دل
لیکن تمام عمر یہ پتھر نہ بن سکا
-
موضوع : دل
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
وہ بد نصیب لوگ بڑے بد نصیب لوگ
پیاسے رہے زمین سے پانی نکال کر
ایسی حالت میں تو مر جاتے ہیں اچھے اچھے
ہم نے جس حال میں اس بار گزارا دکھ ہے
-
موضوع : غم
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
یہ سوچ کر کے کبھی جھوٹ بول لیتے ہیں
ہر ایک شخص سے اب رابطہ خراب نہ ہو
-
موضوع : جھوٹ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ