Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Sarmad Khan's Photo'

سرمد خان

1994 | بدایوں, انڈیا

سرمد خان کے اشعار

مجھے سکوں نہیں دیتی ہیں اب تری یادیں

اب ان دیوں سے بہت تیرگی نکلتی ہے

درخت شب چراغ اور تیرگی

تمہارے بعد سب سے دوستی ہوئی

درخت ٹوٹتے پتوں کا دکھ سمجھتے ہیں

انہیں بھی شامل یاران غم کیا جائے

وہ جب بھی رات کو چھت پر ٹہلنے جاتا ہے

بہت جھجھکتے ہوئے چاندنی نکلتی ہے

ترے بدن کو چھو رہی تھیں انگلیاں

ہتھیلیوں میں تیز روشنی ہوئی

میں پورے دن کی تھکن گھر میں لے کے آیا ہوں

اداسیو مجھے پھر تازہ دم کیا جائے

عشق والے بھی عجب ہیں کہ جہاں بھی جائیں

سب سے پہلے وہاں خوشبو کی دکاں ڈھونڈھتے ہیں

Recitation

بولیے