سرمد خان کے اشعار
مجھے سکوں نہیں دیتی ہیں اب تری یادیں
اب ان دیوں سے بہت تیرگی نکلتی ہے
درخت شب چراغ اور تیرگی
تمہارے بعد سب سے دوستی ہوئی
درخت ٹوٹتے پتوں کا دکھ سمجھتے ہیں
انہیں بھی شامل یاران غم کیا جائے
وہ جب بھی رات کو چھت پر ٹہلنے جاتا ہے
بہت جھجھکتے ہوئے چاندنی نکلتی ہے
ترے بدن کو چھو رہی تھیں انگلیاں
ہتھیلیوں میں تیز روشنی ہوئی
-
موضوع : روشنی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
میں پورے دن کی تھکن گھر میں لے کے آیا ہوں
اداسیو مجھے پھر تازہ دم کیا جائے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ