Aale Ahmad Suroor's Photo'

آل احمد سرور

1911 - 2002 | علی گڑہ, ہندوستان

جدید اردو تنقید کے بنیاد سازوں میں شامل ہیں

جدید اردو تنقید کے بنیاد سازوں میں شامل ہیں

45
Favorite

باعتبار

ادب انقلاب نہیں لاتا بلکہ انقلاب کے لیے ذہن کو بیدار کرتا ہے۔

غزل ہماری ساری شاعری نہیں ہے، مگر ہماری شاعری کا عطر ضرور ہے۔

غزل عبارت، اشارت اور ادا کا آرٹ ہے۔

شاعری میں واقعہ جب تک تجربہ نہ بنے، اس کی اہمیت نہیں ہے۔

زبان جتنی ترقی کرتی جاتی ہے مجموعی طور پر وہ سادہ اور پرکار ہوتی جاتی ہے۔

شاعری میں واقعہ جب تک تجربہ نہ بنے، اس کی اہمیت نہیں ہے۔ خیال جب تک تخیل کے سہارے رنگا رنگ اور پہلودار نہ ہو، بیکار ہے اور احساس جب تک عام اور سطحی احساس سے بلند ہو کر دل کی دھڑکن، لہو کی ترنگ، روح کی پکار نہ بن جائے اس وقت تک اس میں وہ تھرتھراہٹ، گونج، لپک، کیفیت، تاثیر و دل گدازی اور دلنوازی نہیں آتی جو فن کی پہچان ہے۔

نثر میں الفاظ خراماں ہوتے ہیں۔ شاعری میں رقص کرتے ہیں۔ خرام دیکھا جاتا ہے۔ رقص محسوس بھی کیا جاتا ہے۔

فن کی وجہ سے فنکار عزیز اور محترم ہونا چاہیے۔ فنکار کی وجہ سے فن نہیں۔

غزل کی زبان صرف محبوب سے باتیں کرنے کی زبان نہیں، اپنی بات اور اپنے کاروبار شوق کی بات کی زبان ہے۔ اور یہ کاروبار شوق بڑی وسعت رکھتا ہے۔

اچھا نقاد پڑھنے والے کو شاعر سے شاعری کی طرف لے جاتا ہے۔ معمولی نقاد شاعر میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔

اچھی عشقیہ شاعری صرف عشقیہ ہی نہیں کچھ اور بھی ہوتی ہے۔ عشق زندگی کی ایک علامت بن جاتا ہے اور بادہ و ساغر کے پردے میں مشاہدۂ حق ہی نہیں مطالعۂ کائنات پر اس انداز سے تبصرہ ہوتا ہے کہ شعر ایک ابدی حقیقت کا پرتو بن جاتا ہے اور ہر دور میں اپنی تازگی قائم رکھتا ہے۔

اردو میں افسانہ اب بھی افسانہ کم ہے، مضمون یا مرقع یا وعظ زیادہ۔ افسانہ نگار اب بھی افسانوں میں ضرورت سے زیادہ جھانکتا ہے۔

اچھا نقاد وہ ہے جو قاری کو تخلیق کے متعلق نئی بصیرت دے۔

نقاد در اصل وہ مہذب قاری ہے جو مرتب اور منظم ذہن رکھتا ہے۔

محمد حسین آزاد ہوں یا ابو الکلام آزاد طرحدار ضرور ہیں مگر ایک تمثیل اور دوسرا خطابت کے بغیر لقمہ نہیں توڑتا۔ ہماری نثر کو ابھی جذباتیت سے اور بلند ہونا ہے۔

ادب وقتی اور ہنگامی واقعات کو ابدی تناظر میں دیکھنے کا نام ہے۔ ہر لمحے کے ساتھ بدل جانے کا نام نہیں۔

بڑا نقاد وہ ہے جس سے اختلاف تو کیا جائے مگر جس سے انکار ممکن نہ ہو اور جس سے ہر دور میں بصیرت ملتی رہے۔

تنقید کے بغیر ادب ایک ایسا جنگل ہے جس میں پیداوار کی کثرت ہے، موزونیت اور قرینے کا پتہ نہیں۔

دہلی کی شاعری جذبے کی شاعری ہے، وہاں جذبہ خود حسن رکھتا ہے۔ لکھنؤ کی شاعری جذبے کو فن پر قربان کر دیتی ہے۔

کسی ملک کے رہنے والوں کے تخیل کی پرواز کا اندازہ وہاں کی شاعری سے ہوتا ہے مگر اس کی تہذیب کی روح اس کے ناولوں میں جلوہ گر ہوتی ہے۔

شاعری اور ادب کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ وقتی سیاست کے اشاروں پر چلے اور سیاسی تحریکوں کے ہر پیچ و خم کا ساتھ دے۔

ادبی زبان نہ مکمل طور پر بول چال کی زبان ہو سکتی ہے نہ مکمل طور پر علمی۔ ہاں دونوں سے مدد لے سکتی ہے۔

سائنس اور ادب دونوں اب حقیقت کی تلاش کے دو راستے مان لئے گئے ہیں اور دونوں کے درمیان بہت سی پگڈنڈیاں بھی ہیں اور پل بھی۔

ہر ادب میں تجربے ضروری ہیں، مگر تجربوں کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ صرف نئے فارم میں ظاہر ہوں۔ نئے موضوعات، نئے تصورات، نئے عنوانات میں بھی ظاہر ہونے چاہئیں۔

سادگی، شاعری کی کوئی بنیادی قدر نہیں ہے۔ بنیادی قدر شعریت ہے اور یہ شعریت بڑی پرکار سادگی رکھتی ہے اور ضرورت پڑنے پر مشکل بھی ہو سکتی ہے۔

دربار کی وجہ سے شاعری میں شائستگی اور نازک خیالی، صناعی اور ہمواری آئی ہے۔ عیش امروز اور جسم کا احساس ابھرا ہے۔

تنقیدی شعور تو تخلیقی شعور کے ساتھ ساتھ چلتا ہے مگر تنقیدی کارنامے ہر دور میں تخلیقی کارناموں کے پیچھے چلے ہیں۔

حسن تو موزونیت کا دوسرا نام ہے۔

علامتی اظہار، اظہار کا وہ طریقہ ہے جو اس دور میں اس لئے مقبول ہوا کہ یہ دور کوئی سبق دینے یا کسی قصے کی زیبائش کرنے کا قائل نہیں بلکہ ان ننگے لمحوں کی مصوری کا قائل ہے جو کبھی کبھار اور بڑی کاوش کے بعد یا بڑے ریاض کے بعد ہاتھ آتے ہیں۔

ادیب زندگی سے، اس کی سچائی سے، اس کے حسن سے نہیں کٹا، بلکہ سیاسی اور سماجی حالات کی شکار پبلک اس سے کٹ گئی ہے۔