عابد ملک کی اشعار

285
Favorite

باعتبار

بڑے سکون سے افسردگی میں رہتا ہوں

میں اپنے سامنے والی گلی میں رہتا ہوں

زخم اور پیڑ نے اک ساتھ دعا مانگی ہے

دیکھیے پہلے یہاں کون ہرا ہوتا ہے

فلک سے کیسے مرا غم دکھائی دے گا تجھے

کبھی زمین پہ آ اور زمیں سے دیکھ مجھے

میاں یہ عشق تو سب ٹوٹ کر ہی کرتے ہیں

کسی سے ہجر اگر والہانہ ہو جائے

پوچھتا پھرتا ہوں میں اپنا پتہ جنگل سے

آخری بار درختوں نے مجھے دیکھا تھا

سب مجھے ڈھونڈنے نکلے ہیں بجھا کر آنکھیں

بات نکلی ہے کہ میں خواب میں پایا گیا ہوں

یہ محبت کوئی انجان سی شے ہوتی تھی

کیا یہ کم ہے کہ اسے تیری بدولت سمجھے

نکال لائے ہیں سب لوگ اس کے عکس میں نقص

یہ آئینہ ابھی تیار ہونے والا ہے

ہزار طعنے سنے گا خجل نہیں ہوگا

یہ وہ ہجوم ہے جو مشتعل نہیں ہوگا

ابھی سے اس میں شباہت مری جھلکنے لگی

ابھی تو دشت میں دو چار دن گزارے ہیں