Ahmad Khayal's Photo'

احمد خیال

1979

احمد خیال کے اشعار

717
Favorite

باعتبار

مہکتے پھول ستارے دمکتا چاند دھنک

ترے جمال سے کتنوں نے استفادہ کیا

یہ بھی اعجاز مجھے عشق نے بخشا تھا کبھی

اس کی آواز سے میں دیپ جلا سکتا تھا

میں تھا صدیوں کے سفر میں احمدؔ

اور صدیوں کا سفر تھا مجھ میں

یہ بھی تری شکست نہیں ہے تو اور کیا

جیسا تو چاہتا تھا میں ویسا نہیں بنا

عین ممکن ہے کہ بینائی مجھے دھوکہ دے

یہ جو شبنم ہے شرارہ بھی تو ہو سکتا ہے

کوئی حیرت ہے نہ اس بات کا رونا ہے ہمیں

خاک سے اٹھے ہیں سو خاک ہی ہونا ہے ہمیں

سکوت توڑنے کا اہتمام کرنا چاہیئے

کبھی کبھار خود سے بھی کلام کرنا چاہیئے

تمہاری جیت میں پنہاں ہے میری جیت کہیں

تمہارے سامنے ہر بار ہارتا ہوا میں

تو جو یہ جان ہتھیلی پہ لیے پھرتا ہے

تیرا کردار کہانی سے نکل سکتا ہے

کسی درویش کے حجرے سے ابھی آیا ہوں

سو ترے حکم کی تعمیل نہیں کرنی مجھے

ہوا کے ہاتھ پہ چھالے ہیں آج تک موجود

مرے چراغ کی لو میں کمال ایسا تھا

وہ زہر ہے فضاؤں میں کہ آدمی کی بات کیا

ہوا کا سانس لینا بھی محال کر دیا گیا

وہ سر اٹھائے یہاں سے پلٹ گیا احمدؔ

میں سر جھکائے کھڑا ہوں سوال ایسا تھا

دشت میں وادئ شاداب کو چھو کر آیا

میں کھلی آنکھ حسیں خواب کو چھو کر آیا

کوئی تو دشت سمندر میں ڈھل گیا آخر

کسی کے ہجر میں رو رو کے بھر گیا تھا میں

میرے کشکول میں ڈال اور ذرا عجز کہ میں

اتنی خیرات سے آگے نہیں جانے والا

بس چند لمحے پیشتر وہ پاؤں دھو کے پلٹا ہے

اور نور کا سیلاب سا اس آب جو میں آ گیا

وہ دے رہا تھا طلب سے سوا سبھی کو خیالؔ

سو میں نے دامن دل اور کچھ کشادہ کیا

دل کسی بزم میں جاتے ہی مچلتا ہے خیالؔ

سو طبیعت کہیں بے زار نہیں بھی ہوتی

دشت و جنوں کا سلسلہ میرے لہو میں آ گیا

یہ کس جگہ پہ میں تمہاری جستجو میں آ گیا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے