Ahmad Mahfuz's Photo'

احمد محفوظ

1966 | دلی, ہندوستان

معروف ناقد اور شاعر، میر تقی میر پر اپنی تنقیدی تحریروں کے لیے معروف، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبۂ اردو سے وابستہ

معروف ناقد اور شاعر، میر تقی میر پر اپنی تنقیدی تحریروں کے لیے معروف، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبۂ اردو سے وابستہ

احمد محفوظ کی اشعار

271
Favorite

باعتبار

سنا ہے شہر کا نقشہ بدل گیا محفوظؔ

تو چل کے ہم بھی ذرا اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

کہاں کسی کو تھی فرصت فضول باتوں کی

تمام رات وہاں ذکر بس تمہارا تھا

نہیں آسماں تری چال میں نہیں آؤں گا

میں پلٹ کے اب کسی حال میں نہیں آؤں گا

یوں تو بہت ہے مشکل بند قبا کا کھلنا

جو کھل گیا تو پھر یہ عقدہ کھلا رہے گا

شعر جب لفظی یا معنوی پیچیدگی کے سبب قاری کے ذہن میں کوئی سوال یا کئی سولات پیدا کرے تو سمجھنا چاہیے کہ کوئی چیز اس میں ایسی ہے جس کے بارے میں سنجیدہ غوروفکر کا تقاضا ہورہا ہے۔ زیر بحث شعر کی پہلی قرآت میں بظاہر کوئی پیچیدگی نظر نہیں آتی کیونکہ شعر کا بیانیہ بالکل صاف ہے کہ یوں تو بندِ قبا کا کھلنا بہت مشکل ہے لیکن اگر یہ کھلا تو یہ عقدہ کھلا ہی رہے گا۔ لیکن چونکہ اس میں ابہام کی کئی صورتیں نظر آتی ہیں اس لیے شعر کے کئی اجزا پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر ’’یوں تو‘‘، ’’یہ‘‘، ’’ عقدہ کھلا رہے گا‘‘ وغیرہ۔ شعر پر مزید گفتگو کرنے سے پہلے اس کی لغات پر روشنی ڈالتے ہیں۔

(۱) مشکل: پوشیدہ و پنہاں و مشتبہ۔ کارِ پوشیدہ و مشتبہ۔(آنند راج)(۲) کھلنا: ظاہر ہونا۔(۳) بند: تنگ، پوشیدہ۔(۴) کھلا: اعلانیہ۔(۵) عقدہ: گرہ، گانٹھ، مشکل بات، فشار، بکھیڑا۔

اس سے ملنا اور بچھڑنا دیر تک پھر سوچنا

کتنی دشواری کے ساتھ آئے تھے آسانی میں ہم

یہیں گم ہوا تھا کئی بار میں

یہ رستہ ہے سب میرا دیکھا ہوا

اسے بھلایا تو اپنا خیال بھی نہ رہا

کہ میرا سارا اثاثہ اسی مکان میں تھا

کسی سے کیا کہیں سنیں اگر غبار ہو گئے

ہمیں ہوا کی زد میں تھے ہمیں شکار ہو گئے

اب اس مکاں میں نیا کوئی در نہیں کرنا

یہ کام سہل بہت ہے مگر نہیں کرنا

دیکھنا ہی جو شرط ٹھہری ہے

پھر تو آنکھوں میں کوئی منظر ہو

ہم کو آوارگی کس دشت میں لائی ہے کہ اب

کوئی امکاں ہی نہیں لوٹ کے گھر جانے کا

ملنے دیا نہ اس سے ہمیں جس خیال نے

سوچا تو اس خیال سے صدمہ بہت ہوا

گم شدہ میں ہوں تو ہر سمت بھی گم ہے مجھ میں

دیکھتا ہوں وہ کدھر ڈھونڈنے جاتا ہے مجھے

تاریکی کے رات عذاب ہی کیا کم تھے

دن نکلا تو سورج بھی سفاک ہوا

شور حریم ذات میں آخر اٹھا کیوں

اندر دیکھا جائے کہ باہر دیکھا جائے

یہ شغل زبانی بھی بے صرفہ نہیں آخر

سو بات بناتا ہوں اک بات بنانے کو

دامن کو ذرا جھٹک تو دیکھو

دنیا ہے کچھ اور شے نہیں ہے

مری ابتدا مری انتہا کہیں اور ہے

میں شمارۂ مہ و سال میں نہیں آؤں گا

بچھڑ کے خاک ہوئے ہم تو کیا ذرا دیکھو

غبار جا کے اسی کارواں سے ملتا ہے

چڑھا ہوا تھا وہ دریا اگر ہمارے لیے

تو دیکھتے ہی رہے کیوں اتر نہیں گئے ہم

زخموں کو اشک خوں سے سیراب کر رہا ہوں

اب اور بھی تمہارا چہرہ کھلا رہے گا

یہ جو دھواں دھواں سا ہے دشت گماں کے آس پاس

کیا کوئی آگ بجھ گئی سرحد جاں کے آس پاس

یہ کیسا خوں ہے کہ بہہ رہا ہے نہ جم رہا ہے

یہ رنگ دیکھوں کہ دل جگر کا فشار دیکھوں