Ain Tabish's Photo'

عین تابش

1958 | پٹنہ, ہندوستان

اہم معاصر شاعر، اپنی نظموں کے لیے معروف

اہم معاصر شاعر، اپنی نظموں کے لیے معروف

65
Favorite

باعتبار

جی لگا رکھا ہے یوں تعبیر کے اوہام سے

زندگی کیا ہے میاں بس ایک گھر خوابوں کا ہے

بے ہنر دیکھ نہ سکتے تھے مگر دیکھنے آئے

دیکھ سکتے تھے مگر اہل ہنر دیکھ نہ پائے

ایک خوشبو تھی جو ملبوس پہ تابندہ تھی

ایک موسم تھا مرے سر پہ جو طوفانی تھا

ہے ایک ہی لمحہ جو کہیں وصل کہیں ہجر

تکلیف کسی کے لیے آرام کسی کا

اسی قدر ہے حیات و اجل کے بیچ کا فرق

یہ ایک دھوپ کا دریا وہ اک کنارۂ شام

آج بھی اس کے مرے بیچ ہے دنیا حائل

آج بھی اس کے مرے بیچ کی مشکل ہے وہی

ایک بستی تھی ہوئی وقت کے اندوہ میں گم

چاہنے والے بہت اپنے پرانے تھے ادھر

جہاں نہ اپنے عزیزوں کی دید ہوتی ہے

زمین ہجر پہ بھی کوئی عید ہوتی ہے

اک ذرا چین بھی لیتے نہیں تابش صاحب

ملک غم سے نئے فرمان نکل آتے ہیں

میں اس گھڑی اپنے آپ کا سامنا بھی کرنے سے بھاگتا ہوں

وہ زینہ زینہ اترنے والی شبیہ جب مجھ میں جاگتی ہے

روز اک مرگ کا عالم بھی گزرتا ہے یہاں

روز جینے کے بھی سامان نکل آتے ہیں

ہر ایسے ویسے سے قفل قفس نہیں کھلتا

اس امتحاں کے لیے کچھ حقیر ہوتے ہیں

تو جو اس دنیا کی خاطر اپنا آپ گنواتا ہے

اے دل من اے میرے مسافر کام ہے یہ نادانوں کا

میں اپنا کار وفا آزماؤں گا پھر بھی

کہاں میں تیرے ستم یاد کرنے والا ہوں