Ain Tabish's Photo'

عین تابش

1958 | گیا, انڈیا

اہم معاصر شاعر، اپنی نظموں کے لیے معروف

اہم معاصر شاعر، اپنی نظموں کے لیے معروف

عین تابش

غزل 18

نظم 11

اشعار 14

ہے ایک ہی لمحہ جو کہیں وصل کہیں ہجر

تکلیف کسی کے لیے آرام کسی کا

جہاں نہ اپنے عزیزوں کی دید ہوتی ہے

زمین ہجر پہ بھی کوئی عید ہوتی ہے

  • شیئر کیجیے

جی لگا رکھا ہے یوں تعبیر کے اوہام سے

زندگی کیا ہے میاں بس ایک گھر خوابوں کا ہے

بے ہنر دیکھ نہ سکتے تھے مگر دیکھنے آئے

دیکھ سکتے تھے مگر اہل ہنر دیکھ نہ پائے

ایک خوشبو تھی جو ملبوس پہ تابندہ تھی

ایک موسم تھا مرے سر پہ جو طوفانی تھا

کتاب 6

 

ویڈیو 13

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر
Kahaniya tamam shab tamam shab kahaniya

Eminent poet, writer Ain Tabish who is a professor by profession is at Rekhta studio. Ain Tabish is different from other poets of his generation. He started writing when modern poetry was at its peak yet he is more inclined to traditional and classical poetry which exhibit from his works. عین تابش

آنسوؤں کے رتجگوں سے

سارے منظر ایک جیسے عین تابش

آوارہ بھٹکتا رہا پیغام کسی کا

عین تابش

اک شہر تھا اک باغ تھا

اک شہر تھا اک باغ تھا عین تابش

بدلنے کا کوئی موسم نہیں ہوتا

چلے تھے لوگ جب گھر سے عین تابش

حیات_سوختہ_ساماں اک استعارۂ_شام

عین تابش

خاکساری تھی کہ بن دیکھے ہی ہم خاک ہوئے

عین تابش

غبار_جہاں میں چھپے باکمالوں کی صف دیکھتا ہوں

عین تابش

گھنی سیہ زلف بدلیوں سی بلا سبب مجھ میں جاگتی ہے

عین تابش

میری تنہائی کے اعجاز میں شامل ہے وہی

عین تابش

وہی جنوں کی سوختہ_جانی وہی فسوں افسانوں کا

عین تابش

یہاں کے رنگ بڑے دل_پذیر ہوئے ہیں

عین تابش

آڈیو 11

آوارہ بھٹکتا رہا پیغام کسی کا

حیات_سوختہ_ساماں اک استعارۂ_شام

وہی جنوں کی سوختہ_جانی وہی فسوں افسانوں کا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

"گیا" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے