اختر جمال کا تعارف
ہم پہاڑوں کو روند آئے تھے
جب سلیقہ نہیں تھا چلنے کا
معروف شاعر و ادیب اور تذکرہ نگار خلیق الزماں نصرت کی کتاب ”شعرائے مہاراشٹر (ممبئی اور مضافات) کے مطابق ”اختر جمال کا نام:محمد اختر انصاری اور قلمی نام اختر جمال تھا۔ وہ یکم؍جون 1959ء کو بھیونڈی میں حافظ منظور احمد کے یہاں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی وطن الہ آباد یوپی ہے۔ ابتداء میں رہنمائی مشہور و معروف شاعر قیصر الجعفری سے ملی۔ ”دھوپ میں بیٹھی ہوئی ایک شام“ ان کے مجموعے کا نام ہے۔ ٹی وی اور مشاعرے میں بہت کامیاب ہوئے ہیں۔ ممبئی کے کامیاب شعراء اور ادباء سے ان کے گہرے مراسم تھے۔ پڑھنے کا انداز بھی نرالا تھا۔ اختر جمال کی شاعری کوئی تقلیدی نہیں اور نہ ہی اجتہادی تھی، نہ مکھی پر مکھی مارنے کی کوشش ہے بلکہ اس میں ایک فکری حسن و شعور کی رو ہے۔ اخترؔ جمال نے 26؍جون 2020ء کو بھیونڈی میں داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ وہ آس بی بی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔“