Akhtar Razaa Saleemi's Photo'

اختر رضا سلیمی

1974 | اسلام آباد, پاکستان

اختر رضا سلیمی کے شعر

691
Favorite

باعتبار

اک آگ ہماری منتظر ہے

اک آگ سے ہم نکل رہے ہیں

اب زمیں بھی جگہ نہیں دیتی

ہم کبھی آسماں پہ رہتے تھے

گزر رہا ہوں کسی جنت جمال سے میں

گناہ کرتا ہوا نیکیاں کماتا ہوا

پہلے تراشا کانچ سے اس نے مرا وجود

پھر شہر بھر کے ہاتھ میں پتھر تھما دیئے

خواب گلیوں میں پھر رہے تھے اور

لوگ اپنے گھروں میں سوئے تھے

تجھے خبر نہیں اس بات کی ابھی شاید

کہ تیرا ہو تو گیا ہوں مگر میں ہوں اس کا

ہم آئے روز نیا خواب دیکھتے ہیں مگر

یہ لوگ وہ نہیں جو خواب سے بہل جائیں

آئے عدم سے ایک جھلک دیکھنے تری

رکھا ہی کیا تھا ورنہ جہان خراب میں

دل و نگاہ پہ طاری رہے فسوں اس کا

تمہارا ہو کے بھی ممکن ہے میں رہوں اس کا

سنا گیا ہے یہاں شہر بس رہا تھا کوئی

کہا گیا ہے یہاں پر مکان ہوتے تھے

جسموں سے نکل رہے ہیں سائے

اور روشنی کو نگل رہے ہیں

تمہارے ہونے کا شاید سراغ پانے لگے

کنار چشم کئی خواب سر اٹھانے لگے

یہیں کہیں پہ کوئی شہر بس رہا تھا ابھی

تلاش کیجئے اس کا اگر نشاں کوئی ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI