noImage

آنند رام مخلص

پھول پر گلشن کے گویا دانۂ شبنم نہیں

عاشقوں کے حال پر آنکھیں پھراتی ہے بہار

دھوم آنے کی یہ کس کی گلزار میں پڑی ہے

ہاتھ ارگجی کا پیالہ نرگس لیے کھڑی ہے