Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

انجم فاروق

1984 | لاہور, پاکستان

انجم فاروق کے اشعار

71
Favorite

باعتبار

اب ترا رستہ جدا میرا جدا

دیکھ قسمت کا لکھا ہوتے ہوئے

صاحبو میں نے تراشے نہیں پتھر کے صنم

میرے ہاتھوں سے بنا اور بنا ایک ہی شخص

جہاں تک ہو سکے خود کو بچا بدنام ہونے سے

محبت ختم ہوتی ہے محبت عام ہونے سے

بہت اچھا بہت اچھا بہت اچھا ہے تو لیکن

تجھے کوئی کہے اچھا مجھے اچھا نہیں لگتا

بس اتنا سا ہے خلاصہ مری کہانی کا

کہ ابتدا تری آنکھیں ہیں انتہا مرا عشق

ایسے ملیں کہ ہم کو بچھڑنے کا ڈر نہ ہو

وہ عشق کوئی عشق ہے جو عمر بھر نہ ہو

ابھی تو خوش ہوں ترے عشق میں بہت خوش ہوں

یہ ایک دن مرا جینا عذاب کر دے گا

حاکم شہر کی خواہش کہ حکومت کی جائے

ورنہ حالات تو ایسے ہیں کہ ہجرت کی جائے

کہیں بھی بات ہو میرا حوالہ آ ہی جاتا ہے

محبت نے بچایا ہے مجھے گمنام ہونے سے

الوداعی شام آ پہنچی یہاں

چپ ہے تو میرا خدا ہوتے ہوئے

وہ تو انجمؔ خواب تھا بس خواب تھا

کب ترا تھا وہ ترا ہوتے ہوئے

اس لیے سانپ مجھے ڈھونڈ رہے ہیں پیارے

میں مہکتا ہوں ترے ہجر میں صندل ہو کر

بالکونی پہ کھڑی لڑکیاں کب سوچتی ہیں

یہ جگہ ٹھیک نہیں آئنہ داری کے لیے

تو بتا کیسے گزاری شب ہجراں تو نے

میں تو جب رو نہ سکا میں نے غزل خوانی کی

اس لیے کشکول میں پڑتی ہے بھیک

ہم نے ہے لاٹھی سے لٹکایا ہوا

مرے پنجرے کو توڑتے کیوں ہو

جب میں آزاد ہو نہیں سکتا

گلاب رت کی طرح عرصۂ جمال میں آ

ہوائے غم سے نکل موسم وصال میں آ

ان کی چہکار سے یادوں میں خلل پڑتا ہے

گھر کی دیوار سے چڑیوں کو اڑا دو انجمؔ

عشق وقت دگر پہ کیوں چھوڑیں

یہ ترے بعد ہو نہیں سکتا

تو زندگی کا مری انتساب ہے مرے دوست

سو تیرے نام ہی پہلی کتاب ہے مرے دوست

میں چاہتا ہوں کہ تجھ سا دکھائی دوں میں بھی

جمال یار کبھی میرے خد و خال میں آ

اب تو ہوائے شہر بھی بالکل تری طرح

یہ چاہتی ہے کوئی دیا بام پر نہ ہو

میں اگر حرف غلط تھا تو لکھا ہی کیوں تھا

لکھ دیا ہے تو خدارا نہ مٹایا جائے

Recitation

بولیے