Anwar Sadeed's Photo'

انور سدید

1928 - 2016 | سرگودھا, پاکستان

ممتاز پاکستانی نقاد، محقق، شاعر اور کالم نویس؛ ’اردو ادب کی تحریکیں‘ اور’اردو افسانے میں دیہات کی پیش کش‘ کے علاوہ درجنوں اہم کتابوں کے مصنف؛ کئی اہم اخبارات اور ادبی رسالوں کو ادارتی تعاون دیا

ممتاز پاکستانی نقاد، محقق، شاعر اور کالم نویس؛ ’اردو ادب کی تحریکیں‘ اور’اردو افسانے میں دیہات کی پیش کش‘ کے علاوہ درجنوں اہم کتابوں کے مصنف؛ کئی اہم اخبارات اور ادبی رسالوں کو ادارتی تعاون دیا

انور سدید کی اشعار

397
Favorite

باعتبار

کھلی زبان تو ظرف ان کا ہو گیا ظاہر

ہزار بھید چھپا رکھے تھے خموشی میں

خاک ہوں لیکن سراپا نور ہے میرا وجود

اس زمیں پر چاند سورج کا نمائندہ ہوں میں

جاگتی آنکھ سے جو خواب تھا دیکھا انورؔ

اس کی تعبیر مجھے دل کے جلانے سے ملی

چلا میں جانب منزل تو یہ ہوا معلوم

یقیں گمان میں گم ہے گماں ہے پوشیدہ

زمیں کا رزق ہوں لیکن نظر فلک پر ہے

کہو فلک سے مرے راستے سے ہٹ جائے

یوں تسلی کو تو اک یاد بھی کافی تھی مگر

دل کو تسکین ترے لوٹ کے آنے سے ملی

شکوہ کیا زمانے کا تو اس نے یہ کہا

جس حال میں ہو زندہ رہو اور خوش رہو

سیل زماں میں ڈوب گئے مشہور زمانہ لوگ

وقت کے منصف نے کب رکھا قائم ان کا نام

ہم نے ہر سمت بچھا رکھی ہیں آنکھیں اپنی

جانے کس سمت سے آ جائے سواری تیری

کل شام پرندوں کو اڑتے ہوئے یوں دیکھا

بے آب سمندر میں جیسے ہو رواں پانی

پنکھ ہلا کر شام گئی ہے اس آنگن سے

اب اترے گی رات انوکھی یادوں والی

دکھ کے طاق پہ شام ڈھلے

کس نے دیا جلایا تھا

تو جسم ہے تو مجھ سے لپٹ کر کلام کر

خوشبو ہے گر تو دل میں سمٹ کر کلام کر

اس کے بغیر زندگی کتنی فضول ہے

تصویر اس کی دل سے جدا کر کے دیکھتے

آشیانوں میں نہ جب لوٹے پرندے تو سدیدؔ

دور تک تکتی رہیں شاخوں میں آنکھیں صبح تک

گھپ اندھیرے میں بھی اس کا جسم تھا چاندی کا شہر

چاند جب نکلا تو وہ سونا نظر آیا مجھے

دم وصال تری آنچ اس طرح آئی

کہ جیسے آگ سلگنے لگے گلابوں میں

جو پھول جھڑ گئے تھے جو آنسو بکھر گئے

خاک چمن سے ان کا پتا پوچھتا رہا

چشمے کی طرح پھوٹا اور آپ ہی بہہ نکلا

رکھتا بھلا میں کب تک آنکھوں میں نہاں پانی

کوئی بھی پیچیدگی حائل نہیں انور سدیدؔ

زندگی ہے سامنے منظر بہ منظر اور میں