Anwar Siddiqui's Photo'

انور صدیقی

1928

انور صدیقی کے اشعار

ڈبوئے دیتا ہے خود آگہی کا بار مجھے

میں ڈھلتا نشہ ہوں موج طرب ابھار مجھے

ساری شفق سمیٹ کے سورج چلا گیا

اب کیا رہا ہے موج شب تار کے سوا

کتنے سبک دل ہوئے تجھ سے بچھڑنے کے بعد

ان سے بھی ملنا پڑا جن سے محبت نہ تھی

بکھر کے ٹوٹ گئے ہم بکھرتی دنیا میں

خود آفرینی کا سودا ہمارے سر میں تھا

اجالتی نہیں اب مجھ کو کوئی تاریکی

سنوارتا نہیں اب کوئی حادثہ مجھ کو

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے