Arshad Abdul Hamid's Photo'

ارشد عبد الحمید

ٹونک, ہندوستان

معروف شاعر اور ناقد

معروف شاعر اور ناقد

826
Favorite

باعتبار

یہ انتظار نہیں شمع ہے رفاقت کی

اس انتظار سے تنہائی خوبصورت ہے

دل کو معلوم ہے کیا بات بتانی ہے اسے

اس سے کیا بات چھپانی ہے زباں جانتی ہے

سر بلندی مری تنہائی تک آ پہنچی ہے

میں وہاں ہوں کہ جہاں کوئی نہیں میرے سوا

غم جہان و غم یار دو کنارے ہیں

ادھر جو ڈوبے وہ اکثر ادھر نکل آئے

مٹی کو چوم لینے کی حسرت ہی رہ گئی

ٹوٹا جو شاخ سے تو ہوا لے گئی مجھے

سخن کے چاک میں پنہاں تمہاری چاہت ہے

وگرنہ کوزہ گری کی کسے ضرورت ہے

ملے جو اس سے تو یادوں کے پر نکل آئے

اس اک مقام پہ کتنے سفر نکل آئے

کچھ ستارے مری پلکوں پہ چمکتے ہیں ابھی

کچھ ستارے مرے سینے میں سمائے ہوئے ہیں

یہ کس کو یاد کیا روح کی ضرورت نے

یہ کس کے نام سے میرے لہو میں پھول کھلے

زمیں کے پاس کسی درد کا علاج نہیں

زمین ہے کہ مرے عہد کی سیاست ہے

ہمیں تو شمع کے دونوں سرے جلانے ہیں

غزل بھی کہنی ہے شب کو بسر بھی کرنا ہے

حویلی چھوڑنے کا وقت آ گیا ارشدؔ

ستوں لرزتے ہیں اور چھت کی مٹی گرتی ہے

یہ دنیا اکبر ظلموں کی ہم مجبوری کی انارکلی

ہم دیواروں کے بیچ میں ہیں ہم نرغۂ جبر و جلال میں ہیں

انہیں یہ زعم کہ بے سود ہے صدائے سخن

ہمیں یہ ضد کہ اسی ہاؤ ہو میں پھول کھلے

میں اپنے آپ کو بھی دیکھنے سے قاصر ہوں

یہ شام ہجر مجھے کیا دکھانا چاہتی ہے

مدتوں گھاؤ کیے جس کے بدن پر ہم نے

وقت آیا تو اسی خواب کو تلوار کیا

عشق مرہون حکایات و گماں بھی ہوگا

واقعہ ہے تو کسی طور بیاں بھی ہوگا

حلقۂ دل سے نہ نکلو کہ سر کوچۂ خاک

عیش جتنے ہیں اسی کنج کم آثار میں ہیں

مرا ہی سینہ کشادہ ہے چاہتوں کے تئیں

تفنگ درد مرا ہی نشانا چاہتی ہے