Asar Akbarabadi's Photo'

اثر اکبرآبادی

اثر اکبرآبادی کے شعر

919
Favorite

باعتبار

الفت کا ہے مزہ کہ اثرؔ غم بھی ساتھ ہوں

تاریکیاں بھی ساتھ رہیں روشنی کے ساتھ

کتنا مشکل ہے خود بخود رونا

بے خودی سے رہا کرے کوئی

ہے عجب سی کشمکش دل میں اثرؔ

کس کو بھولیں کس کو رکھیں یاد ہم

فکر جہان درد محبت فراق یار

کیا کہئے کتنے غم ہیں مری زندگی کے ساتھ

الفت کے بدلے ان سے ملا درد لا علاج

اتنا بڑھے ہے درد میں جتنی دوا کروں

زندگی اک نئی راہ پر

بے ارادہ ہی چلنے لگی

زندگی تجھ سے یہ گلا ہے مجھے

کوئی اپنا نہیں ملا ہے مجھے

راستہ روک لیا میرا کسی بچے نے

اس میں کوئی تو اثرؔ میری بھلائی ہوگی

اداس ہو نہ تو اے دل کسی کے رونے سے

خوشی کے ساتھ غموں کو بکھرتے دیکھا ہے

جنوں کی خیر ہو تجھ کو اثرؔ ملا سب کچھ

یہ کیفیت بھی ضروری تھی آگہی کے لیے

سایہ بھی ساتھ چھوڑ گیا اب تو اے اثرؔ

پھر کس لیے میں آج کو کل سے جدا کروں

ہم ہوئے دشت نورد پھر بھی نہ دیکھا تجھ کو

زندگی اتنا بتا دے تو کہاں ہوتی ہے

جو لوگ ڈرتے ہیں راتوں کو اپنے سائے سے

انہیں کو دن کے اجالوں میں ڈرتے دیکھا ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے