غزل 21

اشعار 19

پاؤں اس کے بھی نہیں اٹھتے مرے گھر کی طرف

اور اب کے راستہ بدلا ہوا میرا بھی ہے

دیکھ آ کر کہ ترے ہجر میں بھی زندہ ہیں

تجھ سے بچھڑے تھے تو لگتا تھا کہ مر جائیں گے

گزرتے جا رہے ہیں قافلے تو ہی ذرا رک جا

غبار راہ تیرے ساتھ چلنا چاہتا ہوں میں

یہی نہیں کہ کسی یاد نے ملول کیا

کبھی کبھی تو یونہی بے سبب بھی روئے ہیں

خطا یہ تھی کہ میں آسانیوں کا طالب تھا

سزا یہ ہے کہ مرا تیشۂ ہنر بھی گیا

"کانپور" کے مزید شعرا

  • زیب غوری زیب غوری
  • نشور واحدی نشور واحدی
  • فنا نظامی کانپوری فنا نظامی کانپوری
  • مینک اوستھی مینک اوستھی
  • ابو الحسنات حقی ابو الحسنات حقی
  • عشرت ظفر عشرت ظفر
  • چاندنی پانڈے چاندنی پانڈے
  • محمد احمد رمز محمد احمد رمز
  • کوثر جائسی کوثر جائسی
  • متین نیازی متین نیازی