Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Euphonic Amit's Photo'

یوفونک امت

1984 | دلی, انڈیا

یوفونک امت کے اشعار

32
Favorite

باعتبار

پھول کھلتے ہیں تو لگتا ہے ترے ہونٹوں نے

مسکراہٹ کو بڑے ناز سے آزاد کیا

آپ نے جس کو فرشتے کا دیا تھا درجہ

اس کی انسانوں سی فطرت ہے تو حیرت کیا ہے

احسان لے کے دل سے کریں شکریہ ادا

دنیا میں کم ہیں جن میں یہ غیرت ہے آج کل

جو اوروں کو اڑتے ہوئے دیکھتا ہو

وہ پنجرے میں کیسے سکوں سے رہے گا

مرے قلم کی سیاہی میں عشق ہے تیرا

مرا یہ نام یہ شہرت تری بدولت ہے

ہجر میں شدت دکھاتے ہیں سبھی عاشق مگر

لطف تب ہے وصل ہو پر آرزو باقی رہے

جو حقیقت سے خوف کھانے لگے

خواب ایسے میں دیکھتا ہی نہیں

ناچے ہے محبت کی یہ سر تال پہ خود ہی

دل کو یہ ہنر یار سکھایا نہیں جاتا

عجب احساس ہے کہ جب اسے دیکھوں

مجھے پہلی محبت یاد آتی ہے

امیدوں سے کرو آزاد اور پھر

محبت کی صنم پرواز دیکھو

Recitation

بولیے