noImage

فائز دہلوی

1690 - 1737 | دلی, ہندوستان

میر سے قبل اردو کے ممتاز شاعر جنھوں نے اردو شاعری کی بنیاد رکھی

میر سے قبل اردو کے ممتاز شاعر جنھوں نے اردو شاعری کی بنیاد رکھی

158
Favorite

باعتبار

مجھ کو اوروں سے کچھ نہیں ہے کام

تجھ سے ہر دم امیدواری ہے

تیرے ملاپ بن نہیں فائزؔ کے دل کو چین

جیوں روح ہو بسا ہے تو اس کے بدن میں آ

گڑ سیں میٹھا ہے بوسہ تجھ لب کا

اس جلیبی میں قند و شکر ہے

تجھ کو ہے ہم سے جدائی آرزو

میرے دل میں شوق ہے دیدار کا

وہ تماشا و کھیل ہولی کا

سب کے تن رخت کیسری ہے یاد

حسن بے ساختہ بھاتا ہے مجھے

سرمہ انکھیاں میں لگایا نہ کرو

تجھ بدن پر جو لال ساری ہے

عقل اس نے مری بساری ہے

جو کہیے اس کے حق میں کم ہے بے شک

پری ہے حور ہے روح الامیں ہے

میں نے کہا کہ گھر چلے گی میرے ساتھ آج

کہنے لگی کہ ہم سوں نہ کر بات تو بری

جب سجیلے خرام کرتے ہیں

ہر طرف قتل عام کرتے ہیں

ابر کا سایہ و سبزہ راہ کا

جان من رتھ کی سواری یاد ہے

رات دن تو رہے رقیباں سنگ

دیکھنا تیرا مجھ محال ہوا

خوب رو آشنا ہیں فائزؔ کے

مل سبھی رام رام کرتے ہیں

خاک سیتی سجن اٹھا کے کیا

عشق تیرے نے سر بلند مجھے

منہ باندھ کر کلی سا نہ رہ میرے پاس تو

خنداں ہو کر کے گل کی صفت ٹک سخن میں آ

کرے رشک گلستاں دل کو فائزؔ

مرا ساجن بہار انجمن ہے

وہی قدر فائزؔ کی جانے بہت

جسے عشق کا زخم کاری لگے

عشاق جاں بکف کھڑے ہیں تیرے آس پاس

اے دل ربائے غارت جاں اپنے فن میں آ

میں گرفتار ہوں ترے مکھ پر

جگ میں نئی اور کچھ پسند مجھے

پانی ہووے آرسی اس مکھ کو دیکھ

زہرہ اسے کیا کہ اقامت کرے