noImage

فائز دہلوی

1690 - 1737 | دلی, ہندوستان

میر سے قبل اردو کے ممتاز شاعر جنھوں نے اردو شاعری کی بنیاد رکھی

میر سے قبل اردو کے ممتاز شاعر جنھوں نے اردو شاعری کی بنیاد رکھی

109
Favorite

باعتبار

مجھ کو اوروں سے کچھ نہیں ہے کام

تجھ سے ہر دم امیدواری ہے

گڑ سیں میٹھا ہے بوسہ تجھ لب کا

اس جلیبی میں قند و شکر ہے

وہ تماشا و کھیل ہولی کا

سب کے تن رخت کیسری ہے یاد

تیرے ملاپ بن نہیں فائزؔ کے دل کو چین

جیوں روح ہو بسا ہے تو اس کے بدن میں آ

تجھ کو ہے ہم سے جدائی آرزو

میرے دل میں شوق ہے دیدار کا

تجھ بدن پر جو لال ساری ہے

عقل اس نے مری بساری ہے

جب سجیلے خرام کرتے ہیں

ہر طرف قتل عام کرتے ہیں

حسن بے ساختہ بھاتا ہے مجھے

سرمہ انکھیاں میں لگایا نہ کرو

جو کہیے اس کے حق میں کم ہے بے شک

پری ہے حور ہے روح الامیں ہے

ابر کا سایہ و سبزہ راہ کا

جان من رتھ کی سواری یاد ہے

رات دن تو رہے رقیباں سنگ

دیکھنا تیرا مجھ محال ہوا

میں نے کہا کہ گھر چلے گی میرے ساتھ آج

کہنے لگی کہ ہم سوں نہ کر بات تو بری

کرے رشک گلستاں دل کو فائزؔ

مرا ساجن بہار انجمن ہے

عشاق جاں بکف کھڑے ہیں تیرے آس پاس

اے دل ربائے غارت جاں اپنے فن میں آ

خاک سیتی سجن اٹھا کے کیا

عشق تیرے نے سر بلند مجھے

خوب رو آشنا ہیں فائزؔ کے

مل سبھی رام رام کرتے ہیں

میں گرفتار ہوں ترے مکھ پر

جگ میں نئی اور کچھ پسند مجھے

پانی ہووے آرسی اس مکھ کو دیکھ

زہرہ اسے کیا کہ اقامت کرے

وہی قدر فائزؔ کی جانے بہت

جسے عشق کا زخم کاری لگے

منہ باندھ کر کلی سا نہ رہ میرے پاس تو

خنداں ہو کر کے گل کی صفت ٹک سخن میں آ