noImage

فائز دہلوی

1690 - 1737 | دلی, ہندوستان

میر سے قبل اردو کے ممتاز شاعر جنھوں نے اردو شاعری کی بنیاد رکھی

میر سے قبل اردو کے ممتاز شاعر جنھوں نے اردو شاعری کی بنیاد رکھی

مجھ کو اوروں سے کچھ نہیں ہے کام

تجھ سے ہر دم امیدواری ہے

تیرے ملاپ بن نہیں فائزؔ کے دل کو چین

جیوں روح ہو بسا ہے تو اس کے بدن میں آ

گڑ سیں میٹھا ہے بوسہ تجھ لب کا

اس جلیبی میں قند و شکر ہے

جب سجیلے خرام کرتے ہیں

ہر طرف قتل عام کرتے ہیں

وہ تماشا و کھیل ہولی کا

سب کے تن رخت کیسری ہے یاد

تجھ بدن پر جو لال ساری ہے

عقل اس نے مری بساری ہے

حسن بے ساختہ بھاتا ہے مجھے

سرمہ انکھیاں میں لگایا نہ کرو

خاک سیتی سجن اٹھا کے کیا

عشق تیرے نے سر بلند مجھے

جو کہیے اس کے حق میں کم ہے بے شک

پری ہے حور ہے روح الامیں ہے

میں گرفتار ہوں ترے مکھ پر

جگ میں نئی اور کچھ پسند مجھے

خوب رو آشنا ہیں فائزؔ کے

مل سبھی رام رام کرتے ہیں

تجھ کو ہے ہم سے جدائی آرزو

میرے دل میں شوق ہے دیدار کا

کرے رشک گلستاں دل کو فائزؔ

مرا ساجن بہار انجمن ہے

عشاق جاں بکف کھڑے ہیں تیرے آس پاس

اے دل ربائے غارت جاں اپنے فن میں آ

ابر کا سایہ و سبزہ راہ کا

جان من رتھ کی سواری یاد ہے

رات دن تو رہے رقیباں سنگ

دیکھنا تیرا مجھ محال ہوا

میں نے کہا کہ گھر چلے گی میرے ساتھ آج

کہنے لگی کہ ہم سوں نہ کر بات تو بری

منہ باندھ کر کلی سا نہ رہ میرے پاس تو

خنداں ہو کر کے گل کی صفت ٹک سخن میں آ

وہی قدر فائزؔ کی جانے بہت

جسے عشق کا زخم کاری لگے

پانی ہووے آرسی اس مکھ کو دیکھ

زہرہ اسے کیا کہ اقامت کرے