فاروق شمیم

غزل 6

اشعار 7

وقت اک موج ہے آتا ہے گزر جاتا ہے

ڈوب جاتے ہیں جو لمحات ابھرتے کب ہیں

جھوٹ سچ میں کوئی پہچان کرے بھی کیسے

جو حقیقت کا ہی معیار فسانہ ٹھہرا

ہیں راکھ راکھ مگر آج تک نہیں بکھرے

کہو ہوا سے ہماری مثال لے آئے

اپنے ہی فن کی آگ میں جلتے رہے شمیمؔ

ہونٹوں پہ سب کے حوصلہ افزائی رہ گئی

دھوپ چھوتی ہے بدن کو جب شمیمؔ

برف کے سورج پگھل جاتے ہیں کیوں

کتاب 1

 

تصویری شاعری 1

 

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے