Ghalib Ayaz's Photo'

غالب ایاز

1981 | دلی, ہندوستان

غزل 8

اشعار 7

بھلے ہی چھاؤں نہ دے آسرا تو دیتا ہے

یہ آرزو کا شجر ہے خزاں رسیدہ سہی

ہوا کے ہونٹ کھلیں ساعت کلام تو آئے

یہ ریت جیسا بدن آندھیوں کے کام تو آئے

تمہارے در سے اٹھائے گئے ملال نہیں

وہاں تو چھوڑ کے آئے ہیں ہم غبار اپنا

تمام عمر اسے چاہنا نہ تھا ممکن

کبھی کبھی تو وہ اس دل پہ بار بن کے رہا

ہم اس کے جبر کا قصہ تمام چاہتے ہیں

اور اس کی تیغ ہمارا زوال چاہتی ہے

کتاب 1

دشت میں کاٹی ہوئی رُتیں

 

 

 

متعلقہ شعرا

  • محمد احمد محمد احمد ہم عصر

"دلی" کے مزید شعرا

  • داغؔ دہلوی داغؔ دہلوی
  • شیخ ظہور الدین حاتم شیخ ظہور الدین حاتم
  • شاہ نصیر شاہ نصیر
  • آبرو شاہ مبارک آبرو شاہ مبارک
  • بیخود دہلوی بیخود دہلوی
  • شیخ ابراہیم ذوقؔ شیخ ابراہیم ذوقؔ
  • بہادر شاہ ظفر بہادر شاہ ظفر
  • مظہر امام مظہر امام
  • نسیم دہلوی نسیم دہلوی
  • انس خان انس خان