Ghulam Rabbani Taban's Photo'

غلام ربانی تاباں

1914 - 1993 | دلی, ہندوستان

234
Favorite

باعتبار

رہ طلب میں کسے آرزوئے منزل ہے

شعور ہو تو سفر خود سفر کا حاصل ہے

نکھر گئے ہیں پسینے میں بھیگ کر عارض

گلوں نے اور بھی شبنم سے تازگی پائی

your cheeks with perspiration are all aglow anew

these flowers are now fresher laden with the dew

بستیوں میں ہونے کو حادثے بھی ہوتے ہیں

پتھروں کی زد پر کچھ آئنے بھی ہوتے ہیں

چھٹے غبار نظر بام طور آ جائے

پیو شراب کہ چہرے پہ نور آ جائے

یہ چار دن کی رفاقت بھی کم نہیں اے دوست

تمام عمر بھلا کون ساتھ دیتا ہے

کسی کے ہاتھ میں جام شراب آیا ہے

کہ ماہتاب تہ آفتاب آیا ہے

یادوں کے سائے ہیں نہ امیدوں کے ہیں چراغ

ہر شے نے ساتھ چھوڑ دیا ہے تری طرح

غم زندگی اک مسلسل عذاب

غم زندگی سے مفر بھی نہیں

میرے افکار کی رعنائیاں تیرے دم سے

میری آواز میں شامل تری آواز بھی ہے

تباہیوں کا تو دل کی گلہ نہیں لیکن

کسی غریب کا یہ آخری سہارا تھا

غبار راہ چلا ساتھ یہ بھی کیا کم ہے

سفر میں اور کوئی ہم سفر ملے نہ ملے

لب نگار کو زحمت نہ دو خدا کے لیے

ہم اہل شوق زبان نظر سمجھتے ہیں

شباب حسن ہے برق و شرر کی منزل ہے

یہ آزمائش قلب و نظر کی منزل ہے

میں نے کب دعویٰ الہام کیا ہے تاباںؔ

لکھ دیا کرتا ہوں جو دل پہ گزرتی جائے

آنسوؤں سے کوئی آواز کو نسبت نہ سہی

بھیگتی جائے تو کچھ اور نکھرتی جائے

جناب شیخ سمجھتے ہیں خوب رندوں کو

جناب شیخ کو ہم بھی مگر سمجھتے ہیں

بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگا گئے تاباںؔ

رہ حیات میں ایسے مقام بھی آئے

منزلیں راہ میں تھیں نقش قدم کی صورت

ہم نے مڑ کر بھی نہ دیکھا کسی منزل کی طرف

یہ مے کدہ ہے کلیسا و خانقاہ نہیں

عروج فکر و فروغ نظر کی منزل ہے

جنوں میں اور خرد میں در حقیقت فرق اتنا ہے

وہ زیر در ہے ساقی اور یہ زیر دام ہے ساقی

ہماری طرح خراب سفر نہ ہو کوئی

الٰہی یوں تو کسی کا نہ راہبر گم ہو

ادھر چمن میں زر گل لٹا ادھر تاباںؔ

ہماری بے سر و سامانیوں کے دن آئے