Ghulam Rabbani Taban's Photo'

غلام ربانی تاباں

1914 - 1993 | دلی, ہندوستان

279
Favorite

باعتبار

رہ طلب میں کسے آرزوئے منزل ہے

شعور ہو تو سفر خود سفر کا حاصل ہے

نکھر گئے ہیں پسینے میں بھیگ کر عارض

گلوں نے اور بھی شبنم سے تازگی پائی

your cheeks with perspiration are all aglow anew

these flowers are now fresher laden with the dew

یہ چار دن کی رفاقت بھی کم نہیں اے دوست

تمام عمر بھلا کون ساتھ دیتا ہے

چھٹے غبار نظر بام طور آ جائے

پیو شراب کہ چہرے پہ نور آ جائے

بستیوں میں ہونے کو حادثے بھی ہوتے ہیں

پتھروں کی زد پر کچھ آئنے بھی ہوتے ہیں

کسی کے ہاتھ میں جام شراب آیا ہے

کہ ماہتاب تہ آفتاب آیا ہے

یادوں کے سائے ہیں نہ امیدوں کے ہیں چراغ

ہر شے نے ساتھ چھوڑ دیا ہے تری طرح

تباہیوں کا تو دل کی گلہ نہیں لیکن

کسی غریب کا یہ آخری سہارا تھا

غم زندگی اک مسلسل عذاب

غم زندگی سے مفر بھی نہیں

میرے افکار کی رعنائیاں تیرے دم سے

میری آواز میں شامل تری آواز بھی ہے

غبار راہ چلا ساتھ یہ بھی کیا کم ہے

سفر میں اور کوئی ہم سفر ملے نہ ملے

لب نگار کو زحمت نہ دو خدا کے لیے

ہم اہل شوق زبان نظر سمجھتے ہیں

شباب حسن ہے برق و شرر کی منزل ہے

یہ آزمائش قلب و نظر کی منزل ہے

یہ مے کدہ ہے کلیسا و خانقاہ نہیں

عروج فکر و فروغ نظر کی منزل ہے

جناب شیخ سمجھتے ہیں خوب رندوں کو

جناب شیخ کو ہم بھی مگر سمجھتے ہیں

آنسوؤں سے کوئی آواز کو نسبت نہ سہی

بھیگتی جائے تو کچھ اور نکھرتی جائے

منزلیں راہ میں تھیں نقش قدم کی صورت

ہم نے مڑ کر بھی نہ دیکھا کسی منزل کی طرف

میں نے کب دعویٰ الہام کیا ہے تاباںؔ

لکھ دیا کرتا ہوں جو دل پہ گزرتی جائے

بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگا گئے تاباںؔ

رہ حیات میں ایسے مقام بھی آئے

ہماری طرح خراب سفر نہ ہو کوئی

الٰہی یوں تو کسی کا نہ راہبر گم ہو

جنوں میں اور خرد میں در حقیقت فرق اتنا ہے

وہ زیر در ہے ساقی اور یہ زیر دام ہے ساقی

ادھر چمن میں زر گل لٹا ادھر تاباںؔ

ہماری بے سر و سامانیوں کے دن آئے