Gulnar Aafreen's Photo'

گلنار آفرین

1942 | کراچی, پاکستان

60
Favorite

باعتبار

ایک آنسو یاد کا ٹپکا تو دریا بن گیا

زندگی بھر مجھ میں ایک طوفان سا پلتا رہا

سفر کا رنگ حسیں قربتوں کا حامل ہو

بہار بن کے کوئی اب تو ہم سفر آئے

کن شہیدوں کے لہو کے یہ فروزاں ہیں چراغ

روشنی سی جو ہے زنداں کے ہر اک روزن میں

وہ چراغ زیست بن کر راہ میں جلتا رہا

ہاتھ میں وہ ہاتھ لے کر عمر بھر چلتا رہا

گلنارؔ مصلحت کی زباں میں نہ بات کر

وہ زہر پی کے دیکھ جو سچائیوں میں ہے

دل کا ہر زخم تری یاد کا اک پھول بنے

میرے پیراہن جاں سے تری خوشبو آئے

ہم سر راہ وفا اس کو صدا کیا دیتے

جانے والے نے پلٹ کر ہمیں دیکھا بھی نہ تھا

ایک پرچھائیں تصور کی مرے ساتھ رہے

میں تجھے بھولوں مگر یاد مجھے تو آئے

کیا بات ہے کیوں شہر میں اب جی نہیں لگتا

حالانکہ یہاں اپنے پرائے بھی وہی ہیں

کہیے آئینۂ صد فصل بہاراں تجھ کو

کتنے پھولوں کی مہک ہے ترے پیراہن میں

بغیر سمت کے چلنا بھی کام آ ہی گیا

فصیل شہر کے باہر بھی ایک دنیا تھی

ہمیں بھی اب در و دیوار گھر کے یاد آئے

جو گھر میں تھے تو ہمیں آرزوئے صحرا تھی

یہ طلسم موسم گل نہیں کہ یہ معجزہ ہے بہار کا

وہ کلی جو شاخ سے گر گئی وہ صبا کی گود میں پل گئی