noImage

حیدر علی جعفری

حیدر علی جعفری

غزل 6

اشعار 7

آئے ٹھہرے اور روانہ ہو گئے

زندگی کیا ہے، سفر کی بات ہے

خون مزدور کا ملتا جو نہ تعمیروں میں

نہ حویلی نہ محل اور نہ کوئی گھر ہوتا

بھلا نہ پایا اسے جس کو بھول جانا تھا

وفاؤں سے مرا رشتہ بہت پرانا تھا

کس کی صدا فضاؤں میں گونجی ہے چار سو

کس نے مجھے پکارا ہے بچپن کے نام سے

سبھی تو دوست ہیں کیوں شک عبث ہوا مجھ کو

کسی کے ہاتھ کا پتھر مری تلاش میں ہے