noImage

حیدر علی جعفری

آئے ٹھہرے اور روانہ ہو گئے

زندگی کیا ہے، سفر کی بات ہے

خون مزدور کا ملتا جو نہ تعمیروں میں

نہ حویلی نہ محل اور نہ کوئی گھر ہوتا

بھلا نہ پایا اسے جس کو بھول جانا تھا

وفاؤں سے مرا رشتہ بہت پرانا تھا

سبھی تو دوست ہیں کیوں شک عبث ہوا مجھ کو

کسی کے ہاتھ کا پتھر مری تلاش میں ہے

کس کی صدا فضاؤں میں گونجی ہے چار سو

کس نے مجھے پکارا ہے بچپن کے نام سے

کھینچ دیتا میں زمانے پہ محبت کے نقوش

میرے قبضے میں اگر خامۂ شہ پر ہوتا

کیا ضروری ہے جوئے شیر کی بات

کیوں نہ گنگ و جمن کی بات کریں