Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

حماد حسن کے اشعار

19
Favorite

باعتبار

یہاں ہم بیٹھ کر چائے کے اک کپ کو ترستے ہیں

وہاں سب لے کے بسکٹ کیک کے انبار بیٹھے ہیں

دال روٹی سے پریشان ہیں حجرے کے مکین

مولوی مرغ چرائے تو غزل ہوتی ہے

اپنی شوخی سے نہ باز آئے تم اب بھی حمادؔ

شیخ سے پوچھ لیا راستہ مے خانے کا

نوکر ہوں داماد نہیں ہوں کرتا ہوں گھر کے سب کام

تھکن سے حال خراب ہے میرا پیلا ہو گیا ماں کا لال

اس کی ہر ایک بات میں چپکے سے مان لیتا ہوں

جس کو ہو جان و دل عزیز اس کے خلاف جائے کیوں

شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا اب پاؤں دبانا بند کرو

اٹھو جلدی آٹا گوندھو تمہیں ناشتہ نہیں بنانا کیا

ساس آ جائے تو کیوں گھر سے چپک جاتی ہے

یہ معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا

بیوی کی زبان درازی سے جھنجھلاتے ہو گھبراتے ہو

جب شادی کر ہی بیٹھے ہو تو پھر اب شور مچانا کیا

عزت نفس کا سودا کر کے خون کے گھونٹ پئے ہر دم

بھیگی بلی بن کر ہم نے اپنی عمر بتائی تھی

دہل جاتے ہیں بیوی کی گرج سے

بس اب کچھ ایسی حالت ہو گئی ہے

ساس سسر کی خدمت میں ہمیں سارا دن لگ جاتا تھا

پھر بھی ہم کو بیوی نے ہر بات پہ ڈانٹ پلائی تھی

ہماری بلی اور ہم سے ہی میاؤں ہائے ری قسمت

مگر ہم کیا کریں کہ قول اپنا ہار بیٹھے ہیں

Recitation

بولیے