حماد حسن کے اشعار
یہاں ہم بیٹھ کر چائے کے اک کپ کو ترستے ہیں
وہاں سب لے کے بسکٹ کیک کے انبار بیٹھے ہیں
دال روٹی سے پریشان ہیں حجرے کے مکین
مولوی مرغ چرائے تو غزل ہوتی ہے
اپنی شوخی سے نہ باز آئے تم اب بھی حمادؔ
شیخ سے پوچھ لیا راستہ مے خانے کا
نوکر ہوں داماد نہیں ہوں کرتا ہوں گھر کے سب کام
تھکن سے حال خراب ہے میرا پیلا ہو گیا ماں کا لال
شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا اب پاؤں دبانا بند کرو
اٹھو جلدی آٹا گوندھو تمہیں ناشتہ نہیں بنانا کیا
بیوی کی زبان درازی سے جھنجھلاتے ہو گھبراتے ہو
جب شادی کر ہی بیٹھے ہو تو پھر اب شور مچانا کیا
ساس سسر کی خدمت میں ہمیں سارا دن لگ جاتا تھا
پھر بھی ہم کو بیوی نے ہر بات پہ ڈانٹ پلائی تھی