Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

حماد حسن کے اشعار

21
Favorite

باعتبار

یہاں ہم بیٹھ کر چائے کے اک کپ کو ترستے ہیں

وہاں سب لے کے بسکٹ کیک کے انبار بیٹھے ہیں

گر یہی مہنگائی کا عالم رہا تو ایک دن

بیچنا پڑ جائے گا ہم کو بھی اپنا پیرہن

دال روٹی سے پریشان ہیں حجرے کے مکین

مولوی مرغ چرائے تو غزل ہوتی ہے

ذرا دیکھ اس کے نخرے نہیں کھاتی دال روٹی

میں کھلاتا اس کو صدقہ جو یہاں مزار ہوتا

اپنی شوخی سے نہ باز آئے تم اب بھی حمادؔ

شیخ سے پوچھ لیا راستہ مے خانے کا

نوکر ہوں داماد نہیں ہوں کرتا ہوں گھر کے سب کام

تھکن سے حال خراب ہے میرا پیلا ہو گیا ماں کا لال

ہو گیا ہے گھر میں کچھ زیادہ سکوں

گھر میں اب بچوں کی نانی چاہئے

شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا اب پاؤں دبانا بند کرو

اٹھو جلدی آٹا گوندھو تمہیں ناشتہ نہیں بنانا کیا

ساس آ جائے تو کیوں گھر سے چپک جاتی ہے

یہ معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا

بنے ہم جو تیرے دولہا پڑا جھونکنا یہ چولہا

نہ نکاح تجھ سے کرتے نہ یہ حال زار ہوتا

اس کی ہر ایک بات میں چپکے سے مان لیتا ہوں

جس کو ہو جان و دل عزیز اس کے خلاف جائے کیوں

بیوی کی زبان درازی سے جھنجھلاتے ہو گھبراتے ہو

جب شادی کر ہی بیٹھے ہو تو پھر اب شور مچانا کیا

دہل جاتے ہیں بیوی کی گرج سے

بس اب کچھ ایسی حالت ہو گئی ہے

عزت نفس کا سودا کر کے خون کے گھونٹ پئے ہر دم

بھیگی بلی بن کر ہم نے اپنی عمر بتائی تھی

ہماری بلی اور ہم سے ہی میاؤں ہائے ری قسمت

مگر ہم کیا کریں کہ قول اپنا ہار بیٹھے ہیں

ہو مرا کام ہر اک دیسی کے ہتھے چڑھنا

آدھی تنخواہ پر ہنس ہنس کے گزارا کرنا

مرے گھر میں آ کے رہنے کی سزا میں اس کو دیتا

کبھی ڈاکٹر نہ لاتا جو اسے بخار ہوتا

ساس سسر کی خدمت میں ہمیں سارا دن لگ جاتا تھا

پھر بھی ہم کو بیوی نے ہر بات پہ ڈانٹ پلائی تھی

Recitation

بولیے