Hanif Tarin's Photo'

حنیف ترین

1951 - 2020 | دلی, ہندوستان

حنیف ترین کے اشعار

بستی کے حساس دلوں کو چبھتا ہے

سناٹا جب ساری رات نہیں ہوتا

محفل میں پھول خوشیوں کے جو بانٹتا رہا

تنہائی میں ملا تو بہت ہی اداس تھا

پانی نے جسے دھوپ کی مٹی سے بنایا

وہ دائرہ ربط بگڑنے کے لیے تھا

رشتے ناطے ٹوٹے پھوٹے لگے ہیں

جب بھی اپنا سایہ ساتھ نہیں ہوتا

ہر زخم کہنہ وقت کے مرہم نے بھر دیا

وہ درد بھی مٹا جو خوشی کی اساس تھا

ریت پر جلتے ہوئے دیکھ سرابوں کے چراغ

اپنے بکھراؤ میں وہ اور سنور جاتا ہے

جن کا یقین راہ سکوں کی اساس ہے

وہ بھی گمان دشت میں مجھ کو پھنسے لگے