Hanif Tarin's Photo'

حنیف ترین

1951 | دلی, ہندوستان

پانی نے جسے دھوپ کی مٹی سے بنایا

وہ دائرہ ربط بگڑنے کے لیے تھا

محفل میں پھول خوشیوں کے جو بانٹتا رہا

تنہائی میں ملا تو بہت ہی اداس تھا

رشتے ناطے ٹوٹے پھوٹے لگے ہیں

جب بھی اپنا سایہ ساتھ نہیں ہوتا

ہر زخم کہنہ وقت کے مرہم نے بھر دیا

وہ درد بھی مٹا جو خوشی کی اساس تھا

ریت پر جلتے ہوئے دیکھ سرابوں کے چراغ

اپنے بکھراؤ میں وہ اور سنور جاتا ہے

جن کا یقین راہ سکوں کی اساس ہے

وہ بھی گمان دشت میں مجھ کو پھنسے لگے

بستی کے حساس دلوں کو چبھتا ہے

سناٹا جب ساری رات نہیں ہوتا