Haris Bilal's Photo'

حارث بلال

1993 | سرگودھا, پاکستان

تمہاری یاد کی شدت میں بہنے والا اشک

زمیں میں بو دیا جائے تو آنکھ اگ آئے

اچھا تری نظر میں بہت مختلف ہوں میں

یعنی تری نظر میں کوئی دوسرا بھی ہے

پہلے کی بات اور ہے جب دل میں تھے مقیم

اب تم رگوں میں دوڑتے ہو خون کی طرح

میں چاہ کر بھی اسے کچھ نہ دے سکا حارثؔ

وہ بھاؤ پوچھ کے میری دکاں سے لوٹ گیا

کامیابی کی دعائیں مجھے دینے والے

میں ترے عشق میں ناکام ہوا جاتا ہوں

وہ درمیان سے نکلا تو یہ کھلا مجھ پر

کہ ہو گئے ہیں مسلط کئی خدا مجھ پر

وہ مجھ کو دیکھنے میرے قریب آیا ہے

یہ دھند سارے مہینوں میں کیوں نہیں پڑتی

ساری حسوں کی ڈور سماعت کو سونپ کر

اس دل پہ کان رکھ کہ خدا بولتا بھی ہے

پھر اس کے بعد سے مڑ کر بھی دیکھتا ہوں میں

کسی کرن سے ملایا تھا آئنے نے مجھے

ملی ہیں سوکھتے دریا کو بحر کی لہریں

ترے گلاس میں پانی پیا ہے شہزادی

یہ روایت ہے کتابوں میں اتارے جائیں

وہ جو خوشبو کے سفر میں کہیں مارے جائیں

فلک پہ بھیڑ لگی تھی شکستہ آہوں کی

دعا سے پہلے مجھے راستہ بنانا پڑا

یعنی دروازہ بھی اک اسم ہے جس کو پڑھ کر

لوگ دیوار کے اندر سے گزارے جائیں

وہ اندھیرا ہے کہ بجھتی ہوئی آنکھیں مجھ سے

پوچھتی ہیں کہ وہ آئے گا سویرا ہوگا

اندھیری شب کا سفر تھا ہوا تھی صحرا تھا

دیے کو میں نے بچایا تھا اور دیے نے مجھے

Added to your favorites

Removed from your favorites