Haris Bilal's Photo'

حارث بلال

1993 | سرگودھا, پاکستان

55
Favorite

باعتبار

تمہاری یاد کی شدت میں بہنے والا اشک

زمیں میں بو دیا جائے تو آنکھ اگ آئے

اچھا تری نظر میں بہت مختلف ہوں میں

یعنی تری نظر میں کوئی دوسرا بھی ہے

پہلے کی بات اور ہے جب دل میں تھے مقیم

اب تم رگوں میں دوڑتے ہو خون کی طرح

فلک پہ بھیڑ لگی تھی شکستہ آہوں کی

دعا سے پہلے مجھے راستہ بنانا پڑا

کامیابی کی دعائیں مجھے دینے والے

میں ترے عشق میں ناکام ہوا جاتا ہوں

وہ درمیان سے نکلا تو یہ کھلا مجھ پر

کہ ہو گئے ہیں مسلط کئی خدا مجھ پر

میں چاہ کر بھی اسے کچھ نہ دے سکا حارثؔ

وہ بھاؤ پوچھ کے میری دکاں سے لوٹ گیا

وہ مجھ کو دیکھنے میرے قریب آیا ہے

یہ دھند سارے مہینوں میں کیوں نہیں پڑتی

اندھیری شب کا سفر تھا ہوا تھی صحرا تھا

دیے کو میں نے بچایا تھا اور دیے نے مجھے

ساری حسوں کی ڈور سماعت کو سونپ کر

اس دل پہ کان رکھ کہ خدا بولتا بھی ہے

پھر اس کے بعد سے مڑ کر بھی دیکھتا ہوں میں

کسی کرن سے ملایا تھا آئنے نے مجھے

ملی ہیں سوکھتے دریا کو بحر کی لہریں

ترے گلاس میں پانی پیا ہے شہزادی

یہ روایت ہے کتابوں میں اتارے جائیں

وہ جو خوشبو کے سفر میں کہیں مارے جائیں

یعنی دروازہ بھی اک اسم ہے جس کو پڑھ کر

لوگ دیوار کے اندر سے گزارے جائیں

وہ اندھیرا ہے کہ بجھتی ہوئی آنکھیں مجھ سے

پوچھتی ہیں کہ وہ آئے گا سویرا ہوگا