یہ بد نصیبی نہیں ہے تو اور پھر کیا ہے

سفر اکیلے کیا ہم سفر کے ہوتے ہوئے

یہ انتقام ہے یا احتجاج ہے کیا ہے

یہ لوگ دھوپ میں کیوں ہیں شجر کے ہوتے ہوئے

یہاں مضبوط سے مضبوط لوہا ٹوٹ جاتا ہے

کئی جھوٹے اکٹھے ہوں تو سچا ٹوٹ جاتا ہے

میری سنجیدہ طبیعت پہ بھی شک ہے سب کو

بعض لوگوں نے تو بیمار سمجھ رکھا ہے

وہ ایک رات کی گردش میں اتنا ہار گیا

لباس پہنے رہا اور بدن اتار گیا

تو ایک سال میں اک سانس بھی نہ جی پایا

میں ایک سجدے میں صدیاں کئی گزار گیا

تیرے مہماں کے سواگت کا کوئی پھول تھے ہم

جو بھی نکلا ہمیں پیروں سے کچل کر نکلا

در و دیوار بھی گھر کے بہت مایوس تھے ہم سے

سو ہم بھی رات اس جاگیر سے باہر نکل آئے