حسیب سوز

غزل 14

اشعار 8

یہاں مضبوط سے مضبوط لوہا ٹوٹ جاتا ہے

کئی جھوٹے اکٹھے ہوں تو سچا ٹوٹ جاتا ہے

  • شیئر کیجیے

یہ بد نصیبی نہیں ہے تو اور پھر کیا ہے

سفر اکیلے کیا ہم سفر کے ہوتے ہوئے

یہ انتقام ہے یا احتجاج ہے کیا ہے

یہ لوگ دھوپ میں کیوں ہیں شجر کے ہوتے ہوئے

میری سنجیدہ طبیعت پہ بھی شک ہے سب کو

بعض لوگوں نے تو بیمار سمجھ رکھا ہے

وہ ایک رات کی گردش میں اتنا ہار گیا

لباس پہنے رہا اور بدن اتار گیا

کتاب 7

برسوں بعد

 

2009

چاند گونگا ہوگیا

 

2019

دھوپ پھر نکل آئی

 

2017

لمحے لمحے

 

1982

شمارہ نمبر-020

 

لمحے لمحے،بدایوں

مینک اکبرآبادی نمبر: شمارہ نمبر-017

1982

سہ ماہی،لمحے لمحے

009جگن ناتھ آزاد نمبر-شمارہ نمبر

1986

 

ویڈیو 8

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

حسیب سوز

حسیب سوز

خود کو اتنا جو ہوا_دار سمجھ رکھا ہے

حسیب سوز

خود کو اتنا جو ہوا_دار سمجھ رکھا ہے

حسیب سوز

درد آسانی سے کب پہلو بدل کر نکلا

حسیب سوز

نظر نہ آئے ہم اہل_نظر کے ہوتے ہوئے

حسیب سوز

ہمارے خواب سب تعبیر سے باہر نکل آئے

حسیب سوز

یہاں مضبوط سے مضبوط لوہا ٹوٹ جاتا ہے

حسیب سوز

"بدایوں" کے مزید شعرا

  • فانی بدایونی فانی بدایونی
  • احمد عظیم احمد عظیم
  • فہمی بدایونی فہمی بدایونی
  • انیس قلب انیس قلب
  • ڈاکٹر ارملیش ڈاکٹر ارملیش
  • عمران بدایوںی عمران بدایوںی
  • عزیز بدایونی عزیز بدایونی
  • پشپ راج یادو پشپ راج یادو
  • اجول وششٹھا اجول وششٹھا
  • سرمد خان سرمد خان