Iffat Zarrin's Photo'

عفت زریں

1958 | دلی, ہندوستان

ذہن و دل کے فاصلے تھے ہم جنہیں سہتے رہے

ایک ہی گھر میں بہت سے اجنبی رہتے رہے

وہ مل گیا تو بچھڑنا پڑے گا پھر زریںؔ

اسی خیال سے ہم راستے بدلتے رہے

دیکھ کر انسان کی بیچارگی

شام سے پہلے پرندے سو گئے

وہ مجھ کو بھول چکا اب یقین ہے ورنہ

وفا نہیں تو جفاؤں کا سلسلہ رکھتا

پتھر کے جسم موم کے چہرے دھواں دھواں

کس شہر میں اڑا کے ہوا لے گئی مجھے

کون پہچانے گا زریںؔ مجھ کو اتنی بھیڑ میں

میرے چہرے سے وہ اپنی ہر نشانی لے گیا

اگر وہ چاند کی بستی کا رہنے والا تھا

تو اپنے ساتھ ستاروں کا قافلہ رکھتا