Jalaluddin Akbar's Photo'

جلال الدین اکبر

1905 - 1940

ترا وصل ہے مجھے بے خودی ترا ہجر ہے مجھے آگہی

ترا وصل مجھ کو فراق ہے ترا ہجر مجھ کو وصال ہے

یہ بھول بھی کیا بھول ہے یہ یاد بھی کیا یاد

تو یاد ہے اور کوئی نہیں تیرے سوا یاد

دل کو اس طرح دیکھنے والے

دل اگر بے قرار ہو جائے

عشق سے ہے فروغ رنگ جہاں

ابتدا ہم ہیں انتہا ہیں ہم

یہ کائنات یہ بزم ظہور کچھ بھی نہیں

تری نظر میں نہیں ہے جو نور کچھ بھی نہیں