Jawad Sheikh's Photo'

جواد شیخ

1985 | پرتگال

1.1K
Favorite

باعتبار

میں اب کسی کی بھی امید توڑ سکتا ہوں

مجھے کسی پہ بھی اب کوئی اعتبار نہیں

اپنے سامان کو باندھے ہوئے اس سوچ میں ہوں

جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں

کیا ہے جو ہو گیا ہوں میں تھوڑا بہت خراب

تھوڑا بہت خراب تو ہونا بھی چاہئے

ٹوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹوٹے

کہ جسے دیکھ کے ہر دیکھنے والا ٹوٹے

لگ رہا ہے یہ نرم لہجے سے

پھر تجھے کوئی مسئلہ ہوا ہے

ہم بھی کیسے ایک ہی شخص کے ہو کر رہ جائیں

وہ بھی صرف ہمارا کیسے ہو سکتا ہے

کر کچھ ایسا کہ تجھے یاد رکھوں

بھول جانے کا تقاضا ہی سہی

اب مرا دھیان کہیں اور چلا جاتا ہے

اب کوئی فلم مکمل نہیں دیکھی جاتی

میں چاہتا ہوں محبت مجھے فنا کر دے

فنا بھی ایسا کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

کیسے کسی کی یاد ہمیں زندہ رکھتی ہے

ایک خیال سہارا کیسے ہو سکتا ہے

اگر وہ کرنے پہ آتا تو کچھ بھی کر جاتا

یہ سوچ مت کہ اکیلا شرار کیا کرتا

میں اس خیال سے جاتے ہوئے اسے نہ ملا

کہ روک لیں نہ کہیں سامنے کھڑے آنسو

یہ ناگزیر ہے امید کی نمو کے لیے

گزرتا وقت کہیں تھم گیا تو کیا ہوگا؟

اپنی تائید پہ خود عقل بھی حیران ہوئی

دل نے ایسے مرے خوابوں کی حمایت کی ہے

نہیں ایسا بھی کہ یکسر نہیں رہنے والا

دل میں یہ شور برابر نہیں رہنے والا

آؤ تقریب رو نمائی کریں

پاؤں میں ایک آبلہ ہوا ہے