Jawad Sheikh's Photo'

جواد شیخ

1985 | پرتگال

غزل 24

اشعار 16

میں اب کسی کی بھی امید توڑ سکتا ہوں

مجھے کسی پہ بھی اب کوئی اعتبار نہیں

اپنے سامان کو باندھے ہوئے اس سوچ میں ہوں

جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں

  • شیئر کیجیے

کیا ہے جو ہو گیا ہوں میں تھوڑا بہت خراب

تھوڑا بہت خراب تو ہونا بھی چاہئے

  • شیئر کیجیے

کتاب 1

کوئی کوئی بات

 

2016

 

متعلقہ شعرا

  • ادریس بابر ادریس بابر ہم عصر
  • سالم سلیم سالم سلیم ہم عصر
  • علی زریون علی زریون ہم عصر
  • امیر امام امیر امام ہم عصر
  • تہذیب حافی تہذیب حافی ہم عصر