Kausar Jayasi's Photo'

کوثر جائسی

1916 - 2005 | کانپور, ہندوستان

46
Favorite

باعتبار

کبھی کبھی سفر زندگی سے روٹھ کے ہم

ترے خیال کے سائے میں بیٹھ جاتے ہیں

یہ آرزو کے ستارے یہ انتظار کے پھول

چمک رہی ہیں خطائیں مہک رہے ہیں گناہ

اپنے غم کی فکر نہ کی اس دنیا کی غم خواری میں

برسوں ہم نے دست جنوں سے کام لیا دانائی کا

تھی نظر کے سامنے کچھ تو تلافی کی امید

کھیت سوکھا تھا مگر دریا میں طغیانی تو تھی

تخلیق کے پردے میں ستم ٹوٹ رہے ہیں

آزر ہی کے ہاتھوں سے صنم ٹوٹ رہے ہیں

آؤ ہم ہنستے اٹھیں بزم دل آزاراں سے

کون احساس کو بیمار بنا کر اٹھے

وہ عرض غم پہ مری ان کا اہتمام سکوت

تمام شورش تفصیل واقعات گئی

چھلک اٹھا جو کبھی خون آرزو میرا

مژہ مژہ تری رعنائیوں کی بات گئی

غم نیرنگ دکھاتا ہے ہستی کی جلوہ نمائی کا

کتنے زمانوں کا حاصل ہے اک لمحہ تنہائی کا

خواب دیکھا تھا کہاں چمکی ہے تعبیر کہاں

حشر کا دن مری فطرت کا اجالا نکلا