noImage

خالدہ عظمی

خالدہ عظمی کے اشعار

چلے آتے ہیں بے موسم کی بارش کی طرح آنسو

بسا اوقات رونے کا سبب کچھ بھی نہیں ہوتا

ادھر ادھر کے سنائے ہزار افسانے

دلوں کی بات سنانے کا حوصلہ نہ ہوا

بسی ہے سوکھے گلابوں کی بات سانسوں میں

کوئی خیال کسی یاد کے حصار میں ہے

کی مرے بعد قتل سے توبہ

آخری تیر تھا کمان میں کیا

وہ تپش ہے کہ جل اٹھے سائے

دھوپ رکھی تھی سائبان میں کیا

حقیقتیں تو اٹل ہیں بدل نہیں سکتیں

مگر کسی کی تسلی سے حوصلہ ہوا ہے

زیست اور موت کا آخر یہ فسانہ کیا ہے

عمر کیوں حسب ضرورت نہیں دی جا سکتی

یہ کیا خلش ہے کہ لو دے رہی ہے جذبوں کو

نہ جانے کون سا شعلہ میرے شرار میں ہے