noImage

میر محمدی بیدار

1732/3 - 1797

میر محمدی بیدار

غزل 96

اشعار 45

باپ کا ہے فخر وہ بیٹا کہ رکھتا ہو کمال

دیکھ آئینے کو فرزند رشید سنگ ہے

آہ قاصد تو اب تلک نہ پھرا

دل دھڑکتا ہے کیا ہوا ہوگا

ہیں تصور میں اس کے آنکھیں بند

لوگ جانیں ہیں خواب کرتا ہوں

  • شیئر کیجیے

خوشی ہے سب کو روز عید کی یاں

ہوئے ہیں مل کے باہم آشنا خوش

ہم پہ سو ظلم و ستم کیجئے گا

ایک ملنے کو نہ کم کیجئے گا

کتاب 2

 

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے