noImage

میر محمدی بیدار

1732 - 1796

558
Favorite

باعتبار

آہ قاصد تو اب تلک نہ پھرا

دل دھڑکتا ہے کیا ہوا ہوگا

ہیں تصور میں اس کے آنکھیں بند

لوگ جانیں ہیں خواب کرتا ہوں

باپ کا ہے فخر وہ بیٹا کہ رکھتا ہو کمال

دیکھ آئینے کو فرزند رشید سنگ ہے

ہم پہ سو ظلم و ستم کیجئے گا

ایک ملنے کو نہ کم کیجئے گا

خوشی ہے سب کو روز عید کی یاں

ہوئے ہیں مل کے باہم آشنا خوش

اپنے اوپر تو رحم کر ظالم

دیکھ مت بار بار آئینہ

منت و عاجزی و زاری و آہ

تیرے آگے ہزار کر دیکھا

یہ بھی آنا ہے کوئی اس سے نہ آنا بہتر

آئے دم بھی نہ ہوا کہتے ہو جاؤں جاؤں

سب نے لوٹے ان کے جلوہ کے مزے

شربت دیدار جوٹھا ہو گیا

جینے کی نہیں امید ہم کو

تیر اس کا جگر کے پار نکلا

مے کدے میں جو ترے حسن کا مذکور ہوا

سنگ غیرت سے مرا شیشۂ دل چور ہوا

یاد کرتے ہیں تجھے دیر و حرم میں شب و روز

اہل تسبیح جدا صاحب زنار جدا

نشہ میں جی چاہتا ہے بوسہ بازی کیجئے

اتنی رخصت دیجئے بندہ نوازی کیجئے

مشاطہ دیکھ شانے سے تیرا کٹے گا ہاتھ

ٹوٹا گر ایک بال کبھو زلف یار کا

عبث مل مل کے دھوتا ہے تو اپنے دست نازک کو

نہیں جانے کی سرخی ہاتھ سے خون شہیداں کی

روزی رساں خدا ہے فکر معاش مت کر

اس خار کا تو دل میں خوف خراش مت کر

جاتے ہو سیر باغ کو اغیار ساتھ ہو

جو حکم ہو تو یہ بھی گنہ گار ساتھ ہو

آپ کو آپ میں نہیں پاتا

جی میں یاں تک مرے سمائے ہو

عیاں ہے شکل تری یوں ہمارے سینہ سے

کہ جوں شراب نمایاں ہو آبگینہ سے

اگر چلی ہے تو چل یوں کہ پات بھی نہ ہلے

خلل نہ لائے صبا تو فراغ میں گل کے

گر کسی غیر کو فرماؤ گے تب جانو گے

وے ہمیں ہیں کہ بجا لاویں جو ارشاد کرو

جاتا ہے چلا قافلۂ اشک شب و روز

معلوم نہیں اس کا ارادہ ہے کہاں کا

بیدارؔ راہ عشق کسی سے نہ طے ہوئی

صحرا میں قیس کوہ میں فرہاد رہ گیا

کیا ہنگامۂ گل نے مرا جوش جنوں تازہ

ادھر آئی بہار ایدھر گریباں کا رفو ٹوٹا

نہیں کچھ ابر ہی شاگرد میری اشک باری کا

سبق لیتی ہے مجھ سے برق بھی آ بے قراری کا

کس طرح حال دل کہوں اس گل سے باغ میں

پھرتی ہے اس کے ساتھ تو ہر دم صبا لگی

محراب ابروئے بت کافر ادا کو دیکھ

کعبہ کا شیخ باندھ کے احرام رہ گیا

محبت ایسے کی بیدارؔ سخت مشکل ہے

جو اپنی جان سے گزرے وہ اس کی چاہ کرے

دیکھ تو فال میں کہ وہ مجھ سے

نہ ملے گا ملے گا کیا ہوگا

ہوں میں وہ دیوانۂ نازک مزاج گل رخاں

کیجئے زنجیر جس کو سایۂ زنجیر سے

عجب کی ساحری اس من ہرن کی چشم فتاں نے

دیا کاجل سیاہی لے کے آنکھوں سے غزالاں کی

اس کھیل سے کہہ اپنی مژہ سے کہ باز آئے

عالم کو نیزہ بازی سے زیر و زبر کیا

ہے خیال اس کا مانع گفتار

ورنہ سو قوت بیاں ہے مجھے

جہاں وہ ہے نہیں واں کفر و اسلام

عبث جھگڑا ہے شیخ و برہمن میں

ٹک اے بت اپنے مکھڑے سے اٹھا دے گوشۂ برقع

کہ ان مسجد نشینوں کو ہے دعویٰ دین داری کا

نشۂ حسن میں سرشار چلا جاتا ہے

شب تاریک ہے دل دار خدا کو سونپا

ہو گئے دور میں اس چشم کے مے خانے خراب

نہ کہیں شیشہ رہا اور نہ کہیں جام رہا

سایہ سے اپنے وحشت کرتے ہیں مثل آہو

مشکل ہے ہاتھ لگنا از خود رمیدکاں کا

گر وہ بت گلنار قبا جلوہ نما ہو

دیں خرقۂ اسلام کو اہل حرم آتش

جنوں نے دست کاری ایسی بھی کی

نہ تھا گویا گریباں پیرہن میں

شراب و ساقیٔ مہ رو جو ساتھ ہوں بیدارؔ

تو خوش نما ہے شب ماہتاب میں دریا

حواس و ہوش کو چھوڑ آپ دل گیا اس پاس

جب اہل فوج ہی مل جائیں کیا سپاہ کرے

سب لٹا عشق کے میدان میں عریاں آیا

رہ گیا پاس مرے دامن صحرا باقی

کیا ہو گر کوئی گھڑی یاں بھی کرم فرماؤ

آپ اس راہ سے آخر تو گزر کرتے ہیں

تیغ بر دوش سپر ہاتھ میں دامن گرداں

یہ بنا صورت خونخوار کہاں جاتا ہے