مدحت الاختر

غزل 24

اشعار 12

لائی ہے کہاں مجھ کو طبیعت کی دو رنگی

دنیا کا طلب گار بھی دنیا سے خفا بھی

تم مل گئے تو کوئی گلہ اب نہیں رہا

میں اپنی زندگی سے خفا اب نہیں رہا

جانے والے مجھے کچھ اپنی نشانی دے جا

روح پیاسی نہ رہے آنکھ میں پانی دے جا

جسم اس کی گود میں ہو روح تیرے رو بہ رو

فاحشہ کے گرم بستر پر ریاکاری کروں

  • شیئر کیجیے

آنکھیں ہیں مگر خواب سے محروم ہیں مدحتؔ

تصویر کا رشتہ نہیں رنگوں سے ذرا بھی

کتاب 3

چاروں اور

 

1968

میری گفتگو تجھ سے

 

2004

منافقوں میں روز و شب

 

1980

 

متعلقہ شعرا

  • عبید حارث عبید حارث بیٹا

"اورنگ آباد" کے مزید شعرا

  • سراج اورنگ آبادی سراج اورنگ آبادی
  • عشق اورنگ آبادی عشق اورنگ آبادی
  • قاضی سلیم قاضی سلیم
  • بشر نواز بشر نواز
  • سکندر علی وجد سکندر علی وجد
  • قمر اقبال قمر اقبال
  • صابر صابر
  • شاہ حسین نہری شاہ حسین نہری
  • جے پی سعید جے پی سعید
  • لطف النسا امتیاز لطف النسا امتیاز