غزل 24

اشعار 12

لائی ہے کہاں مجھ کو طبیعت کی دو رنگی

دنیا کا طلب گار بھی دنیا سے خفا بھی

جانے والے مجھے کچھ اپنی نشانی دے جا

روح پیاسی نہ رہے آنکھ میں پانی دے جا

تم مل گئے تو کوئی گلہ اب نہیں رہا

میں اپنی زندگی سے خفا اب نہیں رہا

آنکھیں ہیں مگر خواب سے محروم ہیں مدحتؔ

تصویر کا رشتہ نہیں رنگوں سے ذرا بھی

جسم اس کی گود میں ہو روح تیرے رو بہ رو

فاحشہ کے گرم بستر پر ریاکاری کروں

  • شیئر کیجیے

کتاب 2

چاروں اور

 

1968

منافقوں میں روز و شب

 

1980

 

متعلقہ شعرا

  • عبید حارث عبید حارث بیٹا

"اورنگ آباد" کے مزید شعرا

  • سراج اورنگ آبادی سراج اورنگ آبادی
  • قاضی سلیم قاضی سلیم
  • عشق اورنگ آبادی عشق اورنگ آبادی
  • سکندر علی وجد سکندر علی وجد
  • بشر نواز بشر نواز
  • صابر صابر
  • قمر اقبال قمر اقبال
  • شاہ حسین نہری شاہ حسین نہری
  • جے پی سعید جے پی سعید
  • فاروق شمیم فاروق شمیم