Mirza Shauq Lakhnavi's Photo'

مرزا شوقؔ  لکھنوی

1780 - 1871 | لکھنؤ, ہندوستان

شہرہ آفاق عشقیہ مثنوی "زہر عشق " کے لیے معروف

شہرہ آفاق عشقیہ مثنوی "زہر عشق " کے لیے معروف

مرزا شوقؔ  لکھنوی کی اشعار

موت سے کس کو رستگاری ہے

آج وہ کل ہماری باری ہے

گیسو رخ پر ہوا سے ہلتے ہیں

چلئے اب دونوں وقت ملتے ہیں

دیکھ لو ہم کو آج جی بھر کے

کوئی آتا نہیں ہے پھر مر کے

چمن میں شب کو گھرا ابر نو بہار رہا

حضور آپ کا کیا کیا نہ انتظار رہا

ثابت یہ کر رہا ہوں کہ رحمت شناس ہوں

ہر قسم کا گناہ کیے جا رہا ہوں میں

گئے جو عیش کے دن میں شباب کیا کرتا

لگا کے جان کو اپنی عذاب کیا کرتا