Munawwr Badayuni's Photo'

منور بدایونی

1908 - 1984 | بدایوں, انڈیا

منور بدایونی

اشعار 5

پیچھے مڑ مڑ کر نہ دیکھو اے منورؔ بڑھ چلو

شہر میں احباب تو کم ہیں سگے بھائی بہت

  • شیئر کیجیے

جو دل کو دے گئی اک درد عمر بھر کے لیے

تڑپ رہا ہوں ابھی تک میں اس نظر کے لیے

  • شیئر کیجیے

علاج کی نہیں حاجت دل و جگر کے لیے

بس اک نظر تری کافی ہے عمر بھر کے لیے

  • شیئر کیجیے

اب کنج لحد میں ہوں میسر نہیں آنسو

آیا ہے شب ہجر کا رونا مرے آگے

  • شیئر کیجیے

نظر آتی ہیں سوئے آسماں کبھی بجلیاں کبھی آندھیاں

کہیں جل نہ جائے یہ آشیاں کہیں اڑ نہ جائیں یہ چار پر

  • شیئر کیجیے

کتاب 2

 

"بدایوں" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے