Nami Nadri's Photo'

نامی نادری

1922 | سہارن پور, انڈیا

نامی نادری کے شعر

زندگی بس مسکرا کے رہ گئی

کیوں ہمیں ناحق رجھا کے رہ گئی

عروج پر ہے عزیزو فساد کا سورج

جبھی تو سوکھتی جاتی ہیں پیار کی جھیلیں

حسن والوں کی جسارت کیا کہیں

شرمساری سر جھکا کے رہ گئی

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے