Nazm Tabatabai's Photo'

نظم طبا طبائی

1854 - 1933 | لکھنؤ, ہندوستان

143
Favorite

باعتبار

بچھڑ کے تجھ سے مجھے ہے امید ملنے کی

سنا ہے روح کو آنا ہے پھر بدن کی طرف

نشہ میں سوجھتی ہے مجھے دور دور کی

ندی وہ سامنے ہے شراب طہور کی

بنایا توڑ کے آئینہ آئینہ خانہ

نہ دیکھی راہ جو خلوت سے انجمن کی طرف

درد دل سے عشق کے بے پردگی ہوتی نہیں

اک چمک اٹھتی ہے لیکن روشنی ہوتی نہیں

اسیری میں بہار آئی ہے فریاد و فغاں کر لیں

نفس کو خوں فشاں کر لیں قفس کو بوستاں کر لیں

نظر کہیں نہیں اب آتے حضرت ناصح

سنا ہے گھر میں کسی مہ لقا کے بیٹھ گئے

کعبہ و بت خانہ عارف کی نظر سے دیکھیے

خواب دونوں ایک ہی ہیں فرق ہے تعبیر میں

جو اہل دل ہیں الگ ہیں وہ اہل ظاہر سے

نہ میں ہوں شیخ کی جانب نہ برہمن کی طرف

اپنی دنیا تو بنا لی تھی ریاکاروں نے

مل گیا خلد بھی اللہ کو پھسلانے سے

اڑائی خاک جس صحرا میں تیرے واسطے میں نے

تھکا ماندہ ملا ان منزلوں میں آسماں مجھ کو

یوں میں سیدھا گیا وحشت میں بیاباں کی طرف

ہاتھ جس طرح سے آتا ہے گریباں کی طرف

اڑ کے جاتی ہے مری خاک ادھر گاہ ادھر

کچھ پتا دے نہ گئی عمر گریزاں اپنا

مری باتوں میں کیا معلوم کب سوئے وہ کب جاگے

سرے سے اس لیے کہنی پڑی پھر داستاں مجھ کو

لوٹتے رہتے ہیں مجھ پر چاہنے والوں کے دل

ورنہ یوں پوشاک تیری ملگجی ہوتی نہیں

روز سیہ میں ساتھ کوئی دے تو جانئے

جب تک فروغ شمع ہے پروانہ ساتھ ہے

کیا ہے اس نے ہر اک سے وصال کا وعدہ

اس اشتیاق میں مرنا ضروری ہوتا ہے

سحر کو اٹھتے ہیں وہ دیکھ کر کف رنگیں

اب آئنے پہ بھی سکے حنا کے بیٹھ گئے

تو نے تو اپنے در سے مجھ کو اٹھا دیا ہے

پرچھائیں پھر رہی ہے میری اسی گلی میں

یہ دل کی بے قراری خاک ہو کر بھی نہ جائے گی

سناتی ہے لب ساحل سے یہ ریگ رواں مجھ کو

دل اس طرح ہوائے محبت میں جل گیا

بھڑکی کہیں نہ آگ نہ اٹھا دھواں کہیں