Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Nazm Tabatabai's Photo'

نظم طبا طبائی

1854 - 1933 | لکھنؤ, انڈیا

فارسی اور اردو کے ممتاز ادیب اور مترجم، اپنی کتاب 'شرحِ دیوانِ غالب' کے لیے معروف

فارسی اور اردو کے ممتاز ادیب اور مترجم، اپنی کتاب 'شرحِ دیوانِ غالب' کے لیے معروف

نظم طبا طبائی کے اشعار

1.2K
Favorite

باعتبار

بچھڑ کے تجھ سے مجھے ہے امید ملنے کی

سنا ہے روح کو آنا ہے پھر بدن کی طرف

اڑائی خاک جس صحرا میں تیرے واسطے میں نے

تھکا ماندہ ملا ان منزلوں میں آسماں مجھ کو

دل اس طرح ہوائے محبت میں جل گیا

بھڑکی کہیں نہ آگ نہ اٹھا دھواں کہیں

بنایا توڑ کے آئینہ آئینہ خانہ

نہ دیکھی راہ جو خلوت سے انجمن کی طرف

نشے میں سوجھتی ہے مجھے دور دور کی

ندی وہ سامنے ہے شراب طہور کی

سحر کو اٹھتے ہیں وہ دیکھ کر کف رنگیں

اب آئنے پہ بھی سکے حنا کے بیٹھ گئے

جو اہل دل ہیں الگ ہیں وہ اہل ظاہر سے

نہ میں ہوں شیخ کی جانب نہ برہمن کی طرف

تو نے تو اپنے در سے مجھ کو اٹھا دیا ہے

پرچھائیں پھر رہی ہے میری اسی گلی میں

لوٹتے رہتے ہیں مجھ پر چاہنے والوں کے دل

ورنہ یوں پوشاک تیری ملگجی ہوتی نہیں

درد دل سے عشق کے بے پردگی ہوتی نہیں

اک چمک اٹھتی ہے لیکن روشنی ہوتی نہیں

اپنی دنیا تو بنا لی تھی ریاکاروں نے

مل گیا خلد بھی اللہ کو پھسلانے سے

مری باتوں میں کیا معلوم کب سوئے وہ کب جاگے

سرے سے اس لیے کہنی پڑی پھر داستاں مجھ کو

نظر کہیں نہیں اب آتے حضرت ناصح

سنا ہے گھر میں کسی مہ لقا کے بیٹھ گئے

کعبہ و بت خانہ عارف کی نظر سے دیکھیے

خواب دونوں ایک ہی ہیں فرق ہے تعبیر میں

یوں میں سیدھا گیا وحشت میں بیاباں کی طرف

ہاتھ جس طرح سے آتا ہے گریباں کی طرف

کیا ہے اس نے ہر اک سے وصال کا وعدہ

اس اشتیاق میں مرنا ضروری ہوتا ہے

روز سیہ میں ساتھ کوئی دے تو جانئے

جب تک فروغ شمع ہے پروانہ ساتھ ہے

اسیری میں بہار آئی ہے فریاد و فغاں کر لیں

نفس کو خوں فشاں کر لیں قفس کو بوستاں کر لیں

اڑ کے جاتی ہے مری خاک ادھر گاہ ادھر

کچھ پتا دے نہ گئی عمر گریزاں اپنا

یہ دل کی بے قراری خاک ہو کر بھی نہ جائے گی

سناتی ہے لب ساحل سے یہ ریگ رواں مجھ کو

Recitation

بولیے