Pandit Jawahar Nath Saqi's Photo'

پنڈت جواہر ناتھ ساقی

646
Favorite

باعتبار

فلک پہ چاند ستارے نکلنے ہیں ہر شب

ستم یہی ہے نکلتا نہیں ہمارا چاند

قالب کو اپنے چھوڑ کے مقلوب ہو گئے

کیا اور کوئی قلب ہے اس انقلاب میں

نہیں کھلتا سبب تبسم کا

آج کیا کوئی بوسہ دیں گے آپ

جان و دل تھا نذر تیری کر چکا

تیرے عاشق کی یہی اوقات ہے

جذبۂ عشق چاہئے صوفی

جو ہے افسردہ اہل حال نہیں

وہ ماہ جلوہ دکھا کر ہمیں ہوا روپوش

یہ آرزو ہے کہ نکلے کہیں دوبارا چاند

ہم کو بھرم نے بحر توہم بنا دیا

دریا سمجھ کے کود پڑے ہم سراب میں

یہ رسالہ عشق کا ہے ادق ترے غور کرنے کا ہے سبق

کبھی دیکھ اس کو ورق ورق مرا سینہ غم کی کتاب ہے

سکہ اپنا نہیں جمتا ہے تمہارے دل پر

نقش اغیار کے کس طور سے جم جاتے ہیں

محو لقا جو ہیں ملکوتی خصال ہیں

بیدار ہو کے بھی نظر آتے ہیں خواب میں

دل بھی اب پہلو تہی کرنے لگا

ہو گیا تم سا تمہاری یاد میں

برائی بھلائی کی صورت ہوئی

محبت میں سب کچھ روا ہو گیا

نگہ ناز سے اس چست قبا نے دیکھا

شوق بیتاب گل چاک گریباں سمجھا

جم گئے راہ میں ہم نقش قدم کی صورت

نقش پا راہ دکھاتے ہیں کہ وہ آتے ہیں

نفس مطلب ہی مرا فوت ہوا جاتا ہے

جان جاناں یہ مناسب نہیں گھبرا دینا

چھو لے صبا جو آ کے مرے گل بدن کے پاؤں

قائم نہ ہوں چمن میں نسیم چمن کے پاؤں

وسعت مشرب رنداں کا نہیں ہے محرم

زاہد سادہ ہمیں بے سر و ساماں سمجھا

یہ روپوشی نہیں ہے صورت مردم شناسی ہے

ہر اک نا اہل تیرا طالب دیدار بن جاتا

اپنے جنوں کدے سے نکلتا ہی اب نہیں

ساقی جو مے فروش سر رہ گزار تھا

میری قسمت کی کجی کا عکس ہے

یہ جو برہم گیسوئے پر خم رہا

یہ زمزمہ طیور خوش آہنگ کا نہیں

ہے نغمہ سنج بلبل رنگیں نوائے قلب

عشاق جو تصور برزخ کے ہو گئے

آتی ہے دم بہ دم یہ انہیں کو صدائے‌ قلب

نیرنگ عشق آج تو ہو جائے کچھ مدد

پر فن کو ہم کریں متحیر کسی طرح

سالک ہے گرچہ سیر مقامات دل فریب

جو رک گئے یہاں وہ مقام خطر میں ہیں

ہوا نہ قرب تعلق کا اختصاص یہاں

یہ روشناس ز راہ بعیدہ آیا تھا

کیا ہے چشم مروت نے آج مائل مہر

میں ان کی بزم سے کل آب دیدہ آیا تھا