Prem Kumar Nazar's Photo'

پریم کمار نظر

1936 | ہوشیار پور, ہندوستان

نظر نئی غزل کے اہم شاعر

نظر نئی غزل کے اہم شاعر

305
Favorite

باعتبار

رکھ دی ہے اس نے کھول کے خود جسم کی کتاب

سادہ ورق پہ لے کوئی منظر اتار دے

جی چاہتا ہے ہاتھ لگا کر بھی دیکھ لیں

اس کا بدن قبا ہے کہ اس کی قبا بدن

ایک انگڑائی سے سارے شہر کو نیند آ گئی

یہ تماشا میں نے دیکھا بام پر ہوتا ہوا

بہت لمبی مسافت ہے بدن کی

مسافر مبتدی تھکنے لگا ہے

اسی کے ذکر سے ہم شہر میں ہوئے بد نام

وہ ایک شخص کہ جس سے ہماری بول نہ چال

لفظ چھن جائیں مگر تحریر ہو روشن جہاں

ہونٹ ہوں خاموش لیکن گفتگو باقی رہے

آئے گی ہر طرف سے ہوا دستکیں لیے

اونچا مکاں بنا کے بہت کھڑکیاں نہ رکھ

دل تباہ کی ایذا پرستیاں معلوم

جو دسترس میں نہ ہو اس کی جستجو کرنا

کہیں ہیں ریختہ پنجاب میں نظرؔ صاحب

بقدر ذوق تم ان کی سنو ہوا سو ہوا

میں بھی تلاش آب ہوس میں نکلا ہوں

شور سنا تھا اک چشمے کے ابلنے کا

ہو رہا ہے پس دیوار بھی کچھ

جانے کیا کرتا ہے کرنے والا